سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف منگل کو قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جمہوریت کی بقاء کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور حکمران پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین نے بھی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں ۔ وفاقی وزیر برائے محنت وافرادی قوت خورشید شاہ نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو ایک ”آمر“ نے طاقت کے بل پرملک میں ایمرجنسی لگائی۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر چوہدری نثار نے خورشید شاہ کے خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کو ملک کی سیاسی تاریخ پر بدنمادھبہ قرار دیا۔

حز ب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی نے ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک مارچ بھی کیا جس میں پیپلز پارٹی اور حکمران اتحاد میں شامل دوسری جماعتوں کے بعض اراکین بھی اُن کے ساتھ تھے۔ تاہم مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اسمبلی نے نہ تو سیاہ پٹیاں باندھی اور نہ ہی مارچ میں حصہ لیا۔ خیال رہے کہ جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تو یہ دونوں جماعتیں پرویز مشرف کی قریبی اتحادی تھیں۔

سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد کے علاوہ وکلا ء اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی دو سال قبل لگائی جانے والی ایمرجنسی کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں اور اُنھوں نے ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں بھی نکالیں۔

خیال رہے کہ فوجی حکمران پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کو اس سال سپریم کورٹ نے بھی غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے اس کے تحت اُٹھائے جانے والے اقدامات کوکالعدم قرار د ے دیا تھا۔