جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن جاری ہے جب کہ رواں سال اپریل کے اواخر میں مالاکنڈ ڈویژن بمشول سوات میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف شروع کی جانے والی سکیورٹی فورسز کی کارروائی تقریباً مکمل ہو گئی ہے۔

صوبہ سرحد سے گرفتار ہونے والے اور ہتھیار پھینکنے والے سینکڑوں شدت پسندوں کو عدالتوں سے جلد از جلد سزائیں دلوانے کے لیے مرکز میں حکمران پیپلزپارٹی کی اتحادی اور صوبہ سرحد میں برسراقتدار عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماء اور صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شدت پسندوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے لیے حکومت انسداد دہشت گردی کے قوانین میں مجوزہ ترامیم کا ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے اعلان کرے گی۔

میاں افتخار نے بتایا کہ ان ترامیم کا مقصد ان عسکریت پسندوں کوسخت سے سخت سزائیں دلوانا ہیں جو اُن کے بقول ”پھانسی کی سزا“ ہونی چاہیے ۔ اُنھوں نے کہا کہ ان میں وہ تمام شدت پسند شامل ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے یا اُنھوں نے خود سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔

مجوزہ ترامیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ نئے قانون کے تحت گرفتار عسکریت پسندوں کی کم از کم تین ماہ تک ضمانت نہیں ہو سکے گی اور یہ مدت نو ماہ تک بھی بڑھائی جا سکے گی۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں مجوزہ ترامیم سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔

زیر حراست عسکریت پسندوں کو انسداد ہشت گردی کی عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے بارے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی انور کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف مقدمات کی سماعت میں اُنھیں صفائی کا پورا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام قانونی تقاضے بھی پورے کیے جانے چاہیے ۔ اُنھوں نے کہا کہ ہر شخص چاہتا ہے کہ ناصرف عسکریت پسندوں بلکہ ان کو اسلحہ، تربیت اور پیسہ دینے والوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔

قاضی انور کا یہ بھی کہنا ہے کہ عموماً لوگ ڈر اور خوف کے باعث عسکریت پسندوں کے خلاف گواہی دینے سے گھبراتے ہیں اور اُنھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم میں گواہی دینے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ عسکریت پسندوں کو عدالتوں سے سزا دلوانے میں اپنا موثر کردار ادا کرسکیں۔