پاکستان مسلم لیگ ق کے ناراض گروپ نے بدھ کے روز ہونیو الے پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور انہیں غیرمنصفانہ، غیر قانونی اور غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔

 اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناراض گروپ کے رہنما سینیٹر سلیم سیف اللہ خان نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ان انتخابات میں صوبائی صدور اور دیگر عہدوں کے لیے ناراض رہنماؤں سے مشاورت نہیں کی جوان کے بقول پارٹی کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگ ق پر صرف اپنے خاندان کی حکمرانی دیکھنا چاہتے ہیں اور کسی اور کو قیادت کا حق نہیں دینا چاہتے۔

سلیم سیف اللہ خان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت دو مدتوں کے لیے پارٹی کے صدر رہ چکے ہیں اور تیسری مدت کے لیے ان کا اس عہدے پر برقرار رہنا کسی بھی طرح منصفانہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ناراض گروپ اپنا کوئی دھڑا بنا کر علیحدہ پارٹی تشکیل نہیں دینا چاہتالیکن اگر چوہدری شجاعت حسین نے اپنی موجودہ پالیسی ترک نہیں کی تو ایک نئی جماعت کی بنیاد رکھی جائے گی اور ان کے بقول یہی حقیقی مسلم لیگ ہوگی۔ان کے مطابق ناراض گروپ اب پارٹی کا حصہ صرف اسی صورت میں بنے گا جب چوہدری شجاعت حسین اکثریتی رائے کوتسلیم کرتے ہوئے کسی اور کوصدارت کا موقع دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ناراض گروپ کے رہنما نے کہا کہ پارٹی کے مستقبل کی سیاست میں کہیں بھی سابق صدر پرویز مشرف کی جگہ نہیں ہے ۔

دریں اثنا پنجاب میں سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہی کو تیسری مدت کے لیے مسلم لیگ ق کا صوبائی صدر منتخب کرلیاگیا ہے۔ وہ مسلسل تیسری مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

انتخاب کے بعد پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پرویز الہی نے کہا کہ پارٹی میں الیکشن کا عمل نہایت جمہوری ہے اور اس کا مظہر بھرپور انداز میں کارکنوں کی اس عمل میں شریک ہے۔ پرویز الہی کے بقول پارٹی کی قیادت جمہوری انداز میں کام کررہی ہے اور کوئی بھی تاحیات سربراہی کا خواہش مند نہیں ہے۔

ناراض گروپ

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق اس وقت قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے 63ممبران میں سے 30سے 35جب کہ پنجاب اسمبلی میں 85 سے50 ناراض گروپ کا حصہ ہیں۔ ناراض گروپ کے سرگرم رہنماؤں میں حامد ناصر چٹھہ، ہمایوں اختر خان، ارباب غلام رحیم، ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق، عظیم چوہدری اور سینیٹر غفار قریشی سمیت دیگر شامل ہیں۔