عالمی ریڈ کراس کے مقامی عہدے دار جیولس پیونی کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تقریباً 230خاندان انتہائی کس مپرسی کی حالت میں کوئٹہ پہنچے ہیں جو یہاں اپنے رشتے داروں اور جاننے والوں کے ہاں مقیم ہیں۔
دریں اثنا ہلالِ احمر پاکستان کی جانب سے اُن بے گھر خاندانوں میں ہفتے کے روز امدادی اشیا تقسیم کی گئیں۔
بلوچستان میں ادارے کے سربراہ سردار نصیر ترین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر فوجی آپریشن طویل ہوا اور وزیرستان سے بے گھر ہونے والوں کی اکثریت نے بلوچستان کا رُخ کر لیا تو ہنگامی اقدامات درکار ہوں گے۔
اُن کے بقول صوبائی حکومت نے تاحال بے دخل ہونے والوں کی امداد کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال یہ معاملہ اِس نہج پہ نہیں پہنچا صوبہ سرحد کی طرح کیمپ لگانے کی ضرورت پڑے، لیکن اگر ضرورت ہوئی تو کیمپ قائم کیے جائیں گے۔
ہلالِ احمر کے دفتر میں امداد کے لیے آئے ہوئے جنوبی وزیرستان کے ایک نوجوان مجیب الرحمٰن نے بتایا کہ وہ پیدل سفر کرتا ہوا بلوچستان کے علاقے ژوب اور پھر کوئٹہ پہنچا۔ ان کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جِس میں طویل اور مشکل نوعیت کے پیدل سفر کے علاوہ، مصیبت زدہ اور پریشان حال لوگوں سے گاڑی والوں کی طرف سے مہنگے کرائے وصول کرنا شامل ہے۔
واضح رہے کہ پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے جِس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے ہیں، جِن میں سے اکثریت نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی طرف ہجرت کی ہے۔


