آواز دوست۔۔۔۔ انعامی مقابلہ ’میری کہانی‘
’ہماری اور آپ کی زندگیوں میں جنم لینے والی ایسی کہانیاں جنہیں اکثر کوئی سننے والا نہیں ہوتا ‘
ہم ایک عرصے سے آپ کو کہانیاں اکھٹی کرکے سنا رہے ہیں ۔۔۔۔ مثلاً اس ننھے بچے کی کہانی جسے اس کے ماں باپ نے چار پانچ سال کی عمر میں جنوبی پنجاب کے کسی گاؤں سے ملازمت کرنے کے لیے خلیج کی ریاستوں میں بھیج دیا تھا اور اس کے بعد پھر کبھی پلٹ کرنہیں دیکھا۔۔۔۔انہیں شاید پتا ہی نہیں چلا کہ ان کا بچہ ’اونٹوں کا جاکی ‘ بن گیا ہے۔۔ جسے کھانا ناپ تول کردیا جاتا تھا تاکہ اس کا وزن نہ بڑھ جائے اور اس کا اونٹ پیچھے رہ جائے۔۔اور چھو ٹی، چھوٹی غلطیوں پر اسے بجلی کا کرنٹ لگایا جاتاتھا۔۔۔ لیکن ان مظالم نے اس بچے سے اس کی ہنسی نہیں چھینی تھی اور جب انسانی حقوق کے درمند کارکن اسے پاکستان واپس لائے تو اس نے اپنی پرندوں جیسی چہچہاتی آواز میں مجھے فون پر بتایا تھا ۔۔۔’ میں خوش ہوں۔۔۔ لیکن اگر میری ماں مجھے ڈھونڈنے آئی تو میں اسے پہچانوں گا کیسے؟‘
یا یہاں نیو یارک میں وہ بنگلہ دیشی نژاد امریکی۔۔۔ جسے نائین الیون کے فوراً بعد اس المیے پر شدید برہم، ایک شخص نے ، دوسرے تین لوگوں کو مارنے کے بعد ، چہرے پرگولیاں مار کر اتنا شدید زخمی کردیا تھا کہ برسوں میں بھی اس کے زخم نہیں بھرے تھے ۔ لیکن جب اس کے حملہ آور کو موت کی سزا دی گئی تو نہ صرف اس نے اپنے حملہ آور کو دل سے معاف کردیا بلکہ اس کی جان بخشی کے لیے مہم بھی چلائی ۔۔ اس نےہمارے ٹی وی کو بتایا کہ ’ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر تم نے ایک انسان کو بچا لیا تو گویا پوری انسانیت کو بچا لیا۔۔۔۔‘
یا مظفر آباد آزاد کشمیر کی وہ بھولی بھالی نوجوان طالبہ جو ہولناک زلزلے کے بعد دنوں تک، اپنی جیسی بہت سی دوسری بچیوں کے ساتھ، زمین کے اندر دفن رہی تھی ۔۔۔ بعد میں وہاں ایک کیمپ میں مجھ سے باتیں کرتے ہوئے اس نے ، زلزلے کے قیامت خیز جھٹکوں اور زمین کے اندر کے اندھیروں اور ہولناکیوں کی کہانی سناتے ہوئے آنسو نہیں بہائے اور نہ ہی اپنے اس ہاتھ پر دکھ کا اظہار کیا جو دبا رہنے سے ٹیڑھا اور مفلوج ہوگیاتھا ۔۔۔ لیکن وہ یہ بتاتے ہوئے بے ساختہ رو دی تھی کہ تیاری نہ ہونے کی وجہ سے وہ بورڈ کے امتحان میں فیل ہوگئی ہے۔
یا پہاڑوں کا باسی شیر بہادر ۔۔جس نے بینائی سے محروم ہونے کے باوجود ایک پہاڑ کی چوٹی سرکی اور دو بارہ سفر کے لیے تیار ہے۔۔۔ اور جو ریڈیو پر اپنے سفر کی کہانی سناتے نہیں آیاتھا بلکہ یہ خبر سننے کے بعد کہ’ میڈم صائمہ ‘(مرحومہ ) بیمار ہیں، ان کے لیے دعا کرنے آیاتھا اور یہ بتانے کہ اپنی اس باہمت اور نابینا راہنما کے لیے وہ اور بھی بلندیوں پر جائے گا ، کیونکہ ’ میڈم چاہتی ہیں کہ میں ایسا کروں‘۔
ہم نے آپ کو طلعت ہمدانی کی کہانی بھی سنائی تھی جن کا نوجوان بیٹا سلمان نیویارک پر دہشت گرد حملے کے بعد لوگوں کی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے خود بھی جان بحق ہوگیاتھا اور طلعت نے اس کی موت کو، ایک تلخ یاد بنانے کی جگہ اسے امن اور دوستی کے پرچار کے لئے ایک مرہم بنا لیا۔
یا لکھنؤ کی انتہائ غریب بستی میں، ان دلت بچوں کی کہانیاں جو بھیک مانگتے تھے لیکن پھر چند باہمت لڑکے اور لڑکیوں نے اسی بستی میں ان کے لیےایک اسکول کھول کر بھیک مانگنے والے ہاتھوں میں قلم تھما دیے اور انہیں سراٹھا کر جینا سکھا دیا۔
اور پھر یہاں امریکہ میں ہی کروڑوں لوگوں کے محبوب گلوکار عالمگیر جو اپنی کہانی سنانے ہمارے ایک پروگرام میں آئے اور انہوں نے اپنی طویل بیماری کے باوجود صحت یابی کی بھرپور امید کے ساتھ ہنستے مسکراتے آپ میں سے ہر ایک کی پسند کے گیت گائے اور اس سفر کی کہانی سنائی جس کا آغاز انہوں نے کراچی کے ایک کیفے سے گٹار بجانے سے کیا تھا ۔ جس کا معاوضہ انہیں محض کھانے اور پرستاروں کی داد کی صورت میں ملتاتھا۔ ۔ اور جس نے آگے جاکر انہیں کروڑوں لوگوں کا محبوب فن کار بنا دیا۔
یا ۔۔۔ لیکن ہم ہی یہ کہانیاں کیوں سنائیں !!! اب آپ کی باری ہے۔۔۔ جیسا کہ ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔۔ ’مائیکروفون کی دوسری جانب نہیں ، بلکہ ہمارے ساتھ ساتھ‘۔۔۔ ہم منتخب کہانیوں کو آپ کی اپنی آواز میں سنیں گے۔۔۔ یہ کہانیاں اردو ریڈیو، ٹیلی ویژن اورویب کے لیے ہیں۔۔ ہر ماہ تین منتخب کہانیوں پر بڑے انعامات دیے جائیں گے ۔۔۔ لیکن پروگرام کے لیے منتخب ہونے والی ہر کہانی کسی نہ کسی انعام کی مستحق ہوگی۔۔
کہانیاں بھیجنے کے لیے پاکستان میں ہمارا پتہ ہے:
میری کہانی ، وائس آف امریکہ، اردو سروس۔۔پی او بکس نمبر 1353۔۔ اسلام آباد ۔۔ پاکستان
بھارت میں ہمارا پتا ہے۔
میری کہانی ، وائس آف امریکہ ، اردو سروس۔۔پی او بکس نمبر 5437 ، نئی دہلی ،110011 ، بھارت
اور ان کہانیوں کے لیے ہمارا خصوصی ای میل ہے۔
انتظار رہے گا آپ کی کہانیوں کا ۔۔