امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کے بعد ان کے ملک کی طرف سے پاکستان کو تنہا چھوڑ دینا ایک غلطی تھی جو امریکہ آئندہ نہیں دہرائےگا۔
جمعرات کے روز لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں طالب علموں کے تند وتیز سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ نے افغانستان سے سوویت فوج کی پسپائی تک پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا لیکن اس کے بعد کامیابی اور سکون کےاحساس کی وجہ سے واشنگٹن نے اسلام آباد کے ساتھ اس طرح تعاون برقرار نہیں رکھا جیسے رکھنا چاہیئے تھا‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ موجودہ اوباما انتظامیہ اب پاکستان کے ساتھ ایک طویل المعیاد رشتہ قائم کرنا چاہتی ہے جس کا مرکز صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی نہیں بلکہ تعلیم صحت، توانائی، روز گار کے مواقع پیدا کرنا اور پاکستانی قوم کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ ایک مستقل رشتہ قائم کیا جائے تاکہ دونوں ملکوں کے تعلقات کا دائرہ صرف حکومتی سطح تک ہی محدود نہ رہے۔
ہلری کلنٹن نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان میں ایک مستحکم جمہوری نظام کو برقرار رکھنے کے لیے بھرپور مدد دینے کا عزم رکھتا ہے۔
پاکستان کو مغرب میں ایک دہشت گرد ملک تصور کیے جانے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں پاکستان اور اس کے عوام کی مدد اور قربانیوں کے بارے میں امریکہ یا دنیا کو کوئی شعبہ نہیں ہونا چاہیئے۔
ہلری کلنٹن نے اس اُمید کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان جس ہمت اور حوصلے سے اس خطرے کا مقابلہ کر رہا ہے اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل ہو گی.
انہوں نے یقین دلایا کہ امریکہ اس جنگ میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا کیونکہ یہ صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ واشنگٹن کی بھی لڑائی ہے۔
متنازعہ کیری لوگر بل کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوے انہوں نے کہا کہ یہ پیکج کسی بھی طرح پاکستان کی خود مختاری سے متصادم نہیں ہے اور نہ ہی اس کے تحت ساڑھے سات ارب ڈالر امداد دے کر امریکہ پاکستان کے سول یا عسکری امور میں کوئی مداخلت کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کے مطابق اس کا مقصد مخلصانہ طور پر پاکستان کی مدد کرنا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے متواتر ڈرون حملوں اور اس سے پاکستان میں پائے جانے والے غم و غصے پر سوال کا امریکی وزیر خارجہ نے براہ راست جواب نہیں دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو ذہن میں رکھنا نہایت ضروی ہے کہ اس وقت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جنگ جاری ہے اور ان کے مطابق پر عزم کوششوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کو شکست ہوگی۔
انہوں نے سوات اور مالاکنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی سر زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور اگر حکومت پاکستان اس پر خاموش تماشائی بنی رہتی تو یہ پالیسی پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔
امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلٰی تعلیم کے شعبے کی بہتری اور وسعت کے لیے ساڑھے چار کروڑ ڈالرز کی امداد کا اعلان بھی کیا۔ اعلٰی تعلیم کے شعبے کے لیے اس امریکی امداد اور ہلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ماہر تعلیم اے ایچ نیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اگر اس امداد کو ملک میں تعلیم کے شعبے میں تحقیق کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ بہت سود مند ثابت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے جس طرح طالب علموں اور نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دیے وہ قابل ستائش اور ان کی سفارتی کامیابی ہے۔
سابق سفارت کار اور تجزیہ نگار رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی تعاون اور سیاسی روابط کی بنیاد رکھی جائے۔

