دو ہفتوں سے زائد عرصے کی بندش کے بعد صوبہ سرحد میں تعلیمی ادارے پیر سے دوبارہ کھولے جارہے ہیں۔  صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے سکولوں اور دوسری درس گاہوں کی حفاظت کے لیے والدین اور اساتذہ کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک حکمت عملی وضع کی ہے تاکہ طالب علموں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ صوبے میں 27 ہزار سکول ہیں جب کہ پولیس کی مجموعی نفری 50 ہزار ہے اس لیے اگر ہردرس گاہ پر دو پولیس اہلکار بھی تعینات کیے جائیں توحکومت کے لیے ایسا کرنا ممکن نا ہوگا۔  ان محدود وسائل کے پیش نظر افتخار حسین نے کہا کہ طالب علموں اوراساتذہ کو حکام کے ساتھ بھر پور تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔  اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ہیڈ ماسٹروں کو خصوصی اختیارات بھی دیے جار رہے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے وہ حالات کو سامنے رکھ کر سکولوں کے اوقات کار میں ردو بدل کر سکیں گے او ر ایک ہی وقت پر سکول کی چھٹی کی بجائے وفقے وقفے سے مختلف کلاسوں کے طالب علموں کو گھر بھیج سکیں گے۔

خیال رہے کہ صوبہ سرحد میں خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دوسرے واقعات کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں امن وامان کی صورت حال تشویش ناک حد تک خراب ہوئی ہے تاہم 17 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان میں طالبان اور ان کے حامی شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد تعلیمی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے پیش نظر اسلام آباد کی بین الااقوامی یونیورسٹی میں دو خودکش حملوں کے بعد نا صر ف سرحد بلکہ ملک بھر میں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کو بند کر دیا گیا تھا۔
 
سرحد میں سکولوں کے اساتذہ اور والدین نے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے سکولوں کے لیے حفاظتی اقدامات تسلی بخش نہیں۔  صوبائی حکومت کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم بچوں کو سکول لانے لے جانے والی بسوں اور ویگنوں کی حفاظت کو حکام اگر یقینی بنائیں تو والدین کی تشویش میں اس سے کسی حد تک کمی ضرور ہوگی۔

وزیر اطلاعات میاں افتخار کا کہنا ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کے بعد خراب حالات کے باوجود تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔  ان کے بقول زیادہ عرصے سکولوں سے دور رہنے سے طالب علم ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں جب کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اس لیے حکومت نے سکولوں و کالجوں سمیت تمام درس گاہوں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔