افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منگل کے روز بغیر پائلٹ کے مبینہ امریکی جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ لدھا اور مکین کے درمیان زنگڑہ کے علاقے میں اس حملے کا نشانہ طالبان عسکریت پسندوں کا مشتبہ تربیتی مرکز تھا۔
واضح رہے کہ جنوبی وزیر ستان کا یہ علاقہ پاکستانی حکومت کو انتہائی مطلوب تحریک طالبان پاکستان کے سربرا ہ بیت اللہ محسود کا مضبوط گڑھ مانا جاتاہے ۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہو ا ہے جب حکومت کی طرف سے طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے خلاف بھرپورفوجی کارروائی کے اعلان کے بعد ”راہ نجات“ کے نام سے فوج نے جنوبی وزیرستان میں اپنی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور جیٹ طیاروں اور توپوں سے طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق زمینی فوج بھی ان علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی مقامی قبائل کے خلاف نہیں کی جارہی بلکہ اس کا ہدف بیت اللہ محسوداور اُس کے عسکریت پسند ساتھی ہیں جو حکام کے بقول ملک میں ہونے والے 90 فیصد دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں جنوبی وزیر ستان میں طالبان جنگجوؤں کے مشتبہ ٹھکانوں پر مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی میڈیا کے مطابق رواں سال کے دوران اب قبائلی علاقوں میں 20 سے زائد ایسے حملوں میں بیسیوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں متعدد شدت پسند بھی شامل ہیں۔

