کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے ای ایس سی کے مطابق شہر میں بجلی کے بحران کی بڑی وجہ بجلی کا چوری ہونا ہے اور اسے روکنے کے لیے آئے دن نئے قوانین اور سخت الزاما ت کے اعلانات کے باوجود بجلی چوری کا سلسلہ رکنے نہیں پا رہا جس سے ادارہ مالی خسارے کا شکار ہے۔

جمعہ کے روز اُس وقت دل چسپ صورت حال دیکھنے میں آئی جب کے ای ایس سی نے بجلی کی چوری کو روکنے کے لیے علما سے رابطہ کیا۔ جس کے بعد چار مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 12 علما نے بجلی کی چور ی کو شرعاً ناجائز، حرام اور گناہِ کبیرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فتویٰ جاری کیاہے۔

فتوے میں کہا گیاہے ایسے لوگ جو میڑ کو بند یا اس کی رفتار کم یا کنڈی کے استعمال سے یا بجلی کی چور ی کے لیے کوئی اور ایسی صورت اختیار کر رہے ہیں جو حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے ممنوع ہو تواُن پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ کی توبہ کرتے ہوئے اب تک چوری شدہ بجلی کی قیمت ادارے کو ادا کریں۔فتوے میں ایسے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بھی اجازت دی گئی ہے۔


 واضح رہے کہ  کے ای ایس سی حکام کے مطابق بجلی چوری کی وجہ سے ادارے کو سالانہ 16 ارب روپے کانقصان ہوتا ہے جس سے ادارہ مالی خسارے کا شکار ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔مگر دوسری جانب لوگ یہ کہہ کر اپنا دفاع کرتے ہیں کہ مسلسل لوڈشیڈنگ کے باوجود ادارے کی جانب سے اضافی بلوں کی وجہ سے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔