پاکستان کی پارلیمان نے امریکی کانگریس کی اُمور خارجہ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان کی صورت حال پر بحث کو ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دے کر اس کی شدید مذمت کی ہے۔
پیر کی شب قومی اسمبلی کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادِ مذمتی میں کہا گیا ہے کہ اس وقت پاک امریکہ تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں اور واشنگٹن میں ہونے والی عوامی سماعت کی وجہ سے ناصرف ان کی بحالی کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہو گا۔
’’پاکستان کے اندرونی معاملات پر اس نوعیت کی سماعتیں ناقابل قبول ہیں۔‘‘
قرارداد میں امریکی انتظامیہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان جیسے خود مختار ملک سے متعلق حساس معاملات پر اس قسم کی بحث کی بھرپور انداز میں حوصلہ شکنی کرے۔
مذمتی قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو واضح الفاظ میں مطلع کیا جائے کہ وہ باہمی اعتماد کی بحالی کے لیے پارلیمان کی اُن قراردادوں کا احترام کرے جن میں پاکستان کی خود مختاری یقینی بنانے اور ڈرون حملے فی الفور بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

Wajid Hussain-VOA
چودھری نثار علی خان
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے مذمتی قرار داد پیش کرنے سے پہلے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی کانگریس میں پاکستان کے ایک صوبے کے حوالے سے بحث ہو، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہو، وہاں لیکچر دیے جائیں ہماری قوم، حکمرانوں اور پارلیمنٹ کو ... میں سمجھتا ہوں اگر اس پر ہم خاموش رہیں گے تو یہ بہت بڑی زیادتی اور جرم ہو گا۔‘‘
اس سے قبل اسلام آباد میں نائب امریکی سفیر ریچرڈ ہوگلنڈ کو وزارت خارجہ میں طلب کرکے کانگریس کی کمیٹی میں بلوچستان سے متعلق بحث پر حکومت کی سخت تشویش سے آگاہ کیا گیا۔
’’اُنھیں بتایا گیا کہ یہ اقدام ناقابل قبول ہے کیوں کہ یہ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔‘‘

Wajid Hussain - VOA
پاکستانی وزارت خارجہ
وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت کار نے پاکستانی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ امریکی انتظامیہ نے نا تو بلوچستان پر کی گئی بحث کی حمایت کی اور نا ہی وہ سماعت میں پیش کیے گئے خیالات سے متفق ہے۔
کانگریس کی ذیلی کمیٹی میں گزشتہ ہفتے ہونے والی عوامی سماعت میں جہاں بلوچستان میں تعینات سکیورٹی فورسز پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا وہیں بعض امریکی قانون سازوں نے ایک آزاد بلوچستان کی حمایت بھی کی، جو پاکستان میں اس معاملے پر سخت احتجاج کی وجہ بنی ہے۔
پاکستان کے پسماندہ ترین صوبے میں سرگرم بلوچ قوم پرست تنظیموں کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ پامالی کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر اُٹھانے کی کوششوں میں روز بروز تیزی آ رہی ہے اور امریکی کانگریس میں ہونے والی بحث بھی بظاہر اس ہی دباؤ کا نتیجہ تھی۔
قوم پرست بلوچ تنظیمیں طویل عرصے سے سرکاری سکیورٹی فورسز پر صوبے میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات عائد کرتی آ رہی ہیں، لیکن حکومتِ پاکستان ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔



