حکمران پیپلزپارٹی کی طرف سے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ یکے بعد دیگر ے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان کے ساتھ اختلافات کو دو ر کر کے موجودہ مخلوط حکومت کو قائم رکھا جائے۔
پیپلز پارٹی کو بظاہر ایک دھچکا اُس وقت لگا تھا جب اس کی ا تحادی جماعتوں نے اس ہفتے قومی مصالحتی آرڈیننس کے متنازعہ معاملے پر اپنی حمایت کی حامی نہیں بھری اور پیپلز پارٹی کو اس پر پسپائی اختیار کرنا پڑی ۔
صدر آصف علی زرداری پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ ، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت اللہ اسلام فضل الرحمن کی پارلیمانی پارٹیوں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں جب کہ جمعہ کے روز وزیرداخلہ رحمن ملک نے ایم کیوایم کے رہنماؤں سے دوبئی میں ایک اہم ملاقات کی ہے ۔
اس ملاقات کے بارے میں رحمن ملک کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں میں کسی طرح کا کوئی ڈیڈلاک نہیں ہے جب کہ ایم کیوایم کے سینئر رہنمافاروق ستار نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ باہم مشاورت کے ساتھ عوام کے مسائل کو حل کیا جائے گااور اُن کے بقول یہ بات چیت دونوں سیاسی پارٹیوں کے درمیان ماضی میں ہونے والی ملاقاتوں کا تسلسل تھی۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ہفتے کے روز میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ قومی مصالحتی آرڈیننس ہمیشہ کے لیے دفن ہو چکا ہے اور اس معاملے پر اختلافات کے بعد حکومت نے ایم کیو ایم کوآگاہ کردیا تھا کہ این آراو کا معاملہ پارلیمان میں نہیں لایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم دو الگ الگ جماعتیں ہیں اوران میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے تاہم اُن کے بقول اگر متحدہ قومی موومنٹ کو کسی بات پر تحفظات ہوئے تو اُنھیں دور کر لیا جائے گا ۔
اُدھر صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان زاہد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ معمول کی ملاقات تھی ۔ زاہد خان نے کہا کہ اُن کی جماعت حکمران اتحاد میں شامل ہے اورہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی کسی بھی تحریک کا حصہ نہیں بنے گی۔

