ملک بھر میں اِس برس عید پر جانوروں کی خریداری گذشتہ سال سے بھی کم دیکھنے میں آرہی ہے ۔ اِس کی وجہ سیکیورٹی صورت حال اور مہنگائی قرار دی جا رہی ہے۔
عید الاضحیٰ پر لاہور شہر میں جانوروں کی بڑی بڑی منڈیاں لگتی ہیں جہاں پورے پنجاب سے بیوپاری جانور لے کر آتے ہیں۔ تاہم حکومتِ پنجاب نے اِس موقع پر سیکیورٹی کے ایسے سخت انتظامات کیے ہیں کہ اُن کی وجہ سے شہر میں جانور کم پہنچے ہیں۔
پنجاب میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدے دار عمران گورایا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اِس مرتبہ پاس کا نظام نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت اگر کوئی بیوپاری ساہیوال سے لاہور جانور لاتا ہے تو اُسے ساہیوال کی شہری حکومت سے ایک عدد پاس لینا ہوگا جِس میں لکھا ہوگا کہ وہ قربانی کے جانوروں کے ساتھ لاہور آ رہا ہے، اِسی پاس پر ہی اُسے جانوروں سمیت لاہور میں داخلہ ملے گا۔
خیال رہے کہ لاہور میں صرف چار مقامات پر جانوروں کی منڈیاں لگانے کی اجازت دی گئی ہے اور وہ جو گلی محلوں میں بیوپاری جانور لے کر گھومتے پھرتے تھے وہ سلسلہ روک دیا گیا ہے۔
اگرچہ مہنگائی کی شکایت عام ہے تاہم اوکاڑہ سے آنے والے ایک بیوپاری کا کہنا ہے کہ 15ہزار روپے میں بکرا اور 35ہزار روپے میں گائے اُن کے حساب سے معقول دام ہیں۔
گلبرگ کے رہائشی محمد طیب اِس بارے کہتے ہیں کہ چیزیں انتہائی مہنگی ہوگئی ہیں اور لوگ بکرے خریدنے کی بجائے گائے میں حصہ ڈال رہے ہیں، کیونکہ لوگوں کی قوتِ خرید بہت کم ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ برسوں میں لاہور میں عید سے ہفتوں پہلے گھروں کے باہر گیویں بازاروں میں بکرے بندھے نظر آتے تھے۔ لوگ اُن کو سجا بنا کر درگاہوں پر لے جاتے تھے اور جگہ جگہ چارہ ملتا بھی دکھائی دیتا تھا۔ تاہم اب ایسے مناظر شہر میں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔

