پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ فوج نے جنوبی وزیرستان کے زیادہ تر حصے دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ فوج نے جنوبی وزیرستان کے اہم قصبے اور آبادی کے مراکزپر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ وہ منگل کے روز نامہ نگاروں کو سراروغہ کے دورے پر لے گئے تھے۔ یہ وہ قصبہ ہے جو پاکستانی طالبان کے قبضے میں رہا ہے۔
عباس کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے جب سے پاکستان فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی، اب تک 500سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہو پائی۔
ایک مقام پر پاکستانی فوجیوں نے شدت پسندوں سے پکڑے جانے والےاسلحے کی نمائش کی، جِس میں ہتھیار اور بم بنانے سے متعلق ہدایات شامل تھیں۔
دریں اثنا پولیس کا کہنا ہے کہ منگل کو کوئٹہ میں پولیس کی تنصیب کے باہر ہونے والے دھماکے میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز علی الصاںح پاکستان کے خیبر کے قبائلی علاقے میں شدت پسندوں نے لڑکیوں کے اسکول کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ واقعے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ایک مقامی انتظامی عہدے دار فاروق خان کے مطابق عمارت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث اب یہ استعمال کے قابل نہیں رہی۔
لڑکیوں کی تعلیم کے ٕمخالف شدت پسند طالبان نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے صوبہٴ سرحد میں بچیوں کی درس گاہوں پر اکثرو بیشتر حملے کیے ہیں۔

