صدر آصف علی زرداری نے منگل کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے جس میں پاکستان کے شورش زدہ جنوب مغربی صوبے بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت کا تیار کردہ اصلاحات کا پیکج بحث کے لیے پیش کیا جائے گا۔

 ”آغاز حقوقِ بلوچستان “ کے نام سے یہ مجوزہ آئینی و انتظامی سفارشات سینیٹررضا ربانی کی سربراہی میں قائم ایک خصوصی کمیٹی نے انتہائی رازدارانہ انداز میں تیار کی ہیں اس لیے ان کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکی ہیں۔

 صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان پیر کو ہونے والی ایک ملاقات کے بعد صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بلوچستان کے لیے پیکج آئینی اصلاحات،اقتصادی اور انتظامی اقدامات پر مشتمل ہے جن کا مقصد بلوچستان کے عوام کے احساس محرومی کو دور کرنا ہے۔

 بلوچ قوم پرست جماعتیں ایک طویل عرصے سے وفاق سے مطالبہ کرتی چلی آرہی ہیں کہ صوبے کو زیادہ خودمختاری دی جائے، قدرتی وسائل مقامی انتظام میں دیے جائیں، نئی فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے منصوبوں کو ختم کیا جائے اور گوادر کی بندر گاہ کے اختیارات بلوچستان کی حکومت کو منتقل کیے جائیں، صوبے میں فو جی آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف کا رروائی کی جائے ، لاپتہ افراد بازیاب اور گرفتار سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے۔ ان شکایت کو دور کرنے کے لیے مرکز میں ماضی کی حکومتوں نے پہلے بھی ایسے اصلاحاتی پیکج تیار کیے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ تاہم موجودہ حکومت کا ماننا ہے کہ حالیہ سفارشات صوبے کے لوگو ں کی شکایات کا ازالہ کرنے اور وہاں پر امن و امان کی صورت حال کو بہتر کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بڑی بلوچ قوم پرست جماعتیں پہلے ہی اصلاحات کے اس پیکج پر اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہیں اور ان میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ ان سفارشات کی تیاری میں ان سے مشورہ اور انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

حالیہ برسو ں میں بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال خاصی خراب ہوئی ہیں اور صوبے میں تشدد کے واقعات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ صوبے میں سرگرم عمل عسکریت پسند وں کے رہنماؤں میں قابل ذکر براہمدغ بگٹی ہیں جو مقتول بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں۔

 پاکستانی حکومت کا الزا م ہے کہ اس مفرور بلوچ عسکریت پسند لیڈر نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور صوبے میں شورش پسندی کو ہوا دینے میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ پاکستان بھارت پر بھی یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی معاونت کر رہا ہے اور حکام کے بقول اس حوالے سے ٹھوس شواہد بھی ان کے پاس موجود ہیں۔ لیکن بھارت ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔