قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیرمین جمشید دستی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں، اور وہ پی سی بی سمیت تمام کھیلوں کی تنظیموں سے مخصوص لابی کو فارغ کریں گے۔
بدھ کو صحافیوں سے بات چیت میں جمشید دستی نے کہا کہ صدر ہوں یا وزیرِ اعظم دونوں نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹی آزاد ہے اور یہ کہ ‘جمہوری نظام میں قائمہ کمیٹیوں کے فیصلوں کو ترجیح دی جائے گی۔’
قائمہ کمیٹی کے چیرمین کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کمیٹی نے پی سی بی کے آڈٹ کے لیے لکھا۔ پی سی بی کے سابق چیرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کا ذکر کرتے ہوئے قائمہ کمیٹی کے سربراہ نے بتایا کہ وہ ملک سے چلے گئے ہیں۔ اُن کے بقول معلومات یہ ملی ہے کہ پی سی بی کے پیسوں میں دس ارب روپے کا فراڈ ہوا ہے۔
جمشید دستی نے کہا کہ اُنھوں نے موجودہ پی سی بی چیرمین سے دریافت کیا کہ وہ کیا تنخواہ لیتے ہیں، جس پر بتایا گیا کہ کچھ بھی نہیں۔ معلوم ہوا کہ ہر ماہ چھ لاکھ کی مراعات ملتی ہیں۔
کرکٹ کوچ انتخاب عالم کی عمر کے بارے میں جمشید دستی کا کہنا تھا کہ اُن کی عمر 74برس ہے، بینائی کا مسئلہ درپیش ہے اور وہ کمزور ہیں، وہ کھلاڑیوں کو کیا رہنمائی دے سکیں گے۔
مزید یہ کہ کرکٹ بورڈ بغیر قوانین کے چل رہا ہے، جب کہ ‘سپریم کورٹ کے جج کی عمر مقرر ہے، ہائی کورٹ کے جج کی عمر کا معاملہ طے ہے، پھر پاکستان کا ایک آئین ہے جہاں حکومت کی حدیں مقرر ہیں۔’


