پشاور کی پیپل منڈی میں بدھ کو ہونے والے کار بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 116 ہو گئی ہے جن میں15بچے اور 27خواتین شامل ہیں۔ پیپل منڈی کے مینابازار میں ہونے والے مہلک ترین کار بم دھماکے کے خلاف انجمن تاجران کی کال پر پشاور میں جمعہ کے روزجزوی ہڑتال ہے۔
فوج کے سربراہ جنرل اشفا ق پرویز کیانی نے مینا بازار میں ہونے والے بم دھماکے کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے اس میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خاندان سے تعزیت کا اظہارکیا ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق جنرل کیانی نے کہا کہ فوج عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور دہشت گردی اور انتہاپسندی کو شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔
اُدھر عینی شاہدین کے مطابق پیپل منڈی کے مصروف مینا بازار میں بم دھماکے سے مہندم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبی ایک اور لاش کو جمعہ کے روز نکال لیا گیا ہے جب کہ اب بھی ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ بم دھماکے میں زخمی ہونے والے 200 افراد میں سے اب بھی 41 زخمی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے ڈاکٹروں کے مطابق 20 کی حالت تشویش ناک ہے۔
خیال رہے کہ بارود سے بھری ایک گاڑی میں دو روز قبل ہونے والے بم دھماکے میں ہونے والا جانی نقصان رواں سال ملک میں ہونے والے بم دھماکوں میں سب سے زیادہ ہے اور اس بم دھماکے سے ایک درجن سے زائد عمارتیں بھی مکمل طور پر منہدم ہو گئی تھیں۔

