کم از کم 46 افراد کے قتلِ عام کے بعد، فلپین کی صدر گلوریا اورویونے ملک کے جنوبی علاقے میں غیر معینہ مدت کے ہنگامی حالات کا اعلان کردیا۔
پولیس اور فوج نے منگل کے دِن ایک اجتماعی قبر سے 22لاشیں برآمد کیں جو کہ پیر کے روز پتہ لگنے والی قبر کے پاس ہی واقع تھی جِس میں گولیوں سے چھلنی 24لاشیں د ریافت ہوئی تھیں۔ قتلِ عام میں ملوث یہ علاقہ مگوندا ناؤ صوبے کے مندناؤ جزیرے میں واقع ہے۔
پیر کے دِن مسلح افراد نے صحافیوں اور مقامی انتخابات کے متوقع امیدوار کے حمایتوں کے قافلے پر حملہ کیا۔ لوکل باڈیز کے یہ انتخابات اگلے سال مئی میں ہونے والے ہیں، اور متوقع امیدار نامزدگی کے کاغذات جمع کرانے کے لیے علاقے میں سفر کررہا تھا۔
ہلاک شدگان کو ایک دور دراز علاقے میں لے جاکر قتل کیا گیا۔
مقامی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اِن میں کئی لوگوں کے اعضا کو مسخ کیا گیا تھا اور کھُلی قبر میں دھکیلنے سے پہلے اُن کے گلے کاٹے گئے تھے۔
صدر کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کو انصاف دلوانے اور قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

