سعودی عرب میں عہدے داروں نے کہا ہے کہ ملک کے مغربی علاقے میں شدید سیلابوں میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔
بحیرہ احمر پر واقع بندرگاہ کا شہر جدّہ اور اُس کے اطراف کے علاقے، موسلا دھار بارشوں کے باعث شدید سیلاب کی لپیٹ میں آگئے تھے۔سالانہ حج کے زمانے میں بیشتر عازمین حج کے جہاز اسی بندرگاہ پر آکر لنگر انداز ہوتے ہیں اور اسی شہر کے راستے اُن حاجیوں کی واپسی ہوتی ہے۔عہدے داروں نے کہا ہے کہ سیلاب میں باہر سے آئے ہوئے عازمینِ حج میں سے کوئى شخص ہلاک نہیں ہوا۔
بہت سے لوگ اُس وقت ہلاک ہوئے جب اُن کی کاریں سیلاب میں بہہ گئیں۔ اسی طرح گھروں اور پُلوں کے منہدم ہونے کے حادثوں میں بھی لوگ ہلاک ہوئےہیں۔
جو لوگ اس تباہ کُن سیلاب کے پانی میں گِھر گئے تھے، اُنہیں بچانے کے لیے حکام کو کارروائى کرنا پڑی۔
جدّے میں رہنے والے بہت سے لوگ بلدیہ پر الزام عائد کررہے ہیں کہ اُس نے شہر کے لیے مناسب زیریں ڈھانچہ تعمیر نہیں کیا۔ اور ہزاروں لوگ انٹر نیٹ پر سیلاب کی شکایات کے لیے تشکیل دی ہوئى ایک فیس بُک میں انتظامیہ کے خلاف اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔
ایک سعودی وکیل کا کہنا ہے کہ وہ مبیّنہ بد انتظامی کے الزام میں شہر کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کرے گا۔

