محکمہ آثارِقدیمہ پنجاب کے ماہرین کے لیے شالا مار باغ کی درست حالی یا بحالی کے کام میں سب سے بڑا چینلج اُس زیر زمین آبی نظام کی مرمت کرنا ہے جس سے رِس رِس کر پانی نے باغ کے مختلف حصوں میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔

 

محکمہ کے عہدیدار انجم سلیم قریشی نے وا ئس آف امریکہ کو بتایا کہ بنیادوں میں پانی چلے جانے کی وجہ سے باغ کے تینوں تختوں کو خطرہ تھا اور تیسرے تختے کی حالت اس قدر خراب تھی کہ فوارے تک بند ہوگئے تھے۔ 

 

اُنہوں نے بتایا کہ تیسرے تختے کے زیر زمین پانی کے نظام کو اُن کے محکمے کے ماہرین نے مرمت کرکے فواروں میں پانی جاری کردیا ہے اور اب شالامار باغ کا یہ حصہ مزید خراب ہونے سے بچ گیا ہے تاہم اُن کے بقول باقی دو تختوں پر بحالی کا کام مرحلہ وار جاری رہے گا۔ 

 

ایک سوال کےجواب میں انجم سلیم قریشی نے کہا کہ اب فوری طور پر شالا مار باغ کے کسی حصے کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور حکومت پنجاب تار یخی اہمیت کے اس باغ کی بحالی کے آٹھ سالہ منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ 

 

اُنہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے آخری مرحلے میں پورے باغ کے گرد دو سو فٹ چوڑا ایک بفر زون بنائے جانے کی منصوبہ بندی ہے تاکہ بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد شالا مار باغ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہے۔ 

 

اُنہوں نے بتایا کہ شالا مار باغ کے اردگرد جو سڑکیں ہیں وہ یقیناً اس بفر زون میں آجائیں گی لہذا ٹریفک کے لیے نئے راستے بنانا ہونگے تاہم اُن کے بقول یہ ابھی دور کی بات ہے۔ 

واضح رہے کہ شالا مار باغ کی بحالی کے اس منصوبے میں باغ کے اندر موجود راستوں، تختوں کے درمیان دیو اروں، شاہی آرام گاہ اور خواب گاہ کی عمارت سمیت باغ کے دیگر حصوں کی درست حالی کا کام بھی شامل ہے۔ 

 

انجم سلیم قریشی کا کہنا تھا کہ آجکل باغ کے اِردگرد جو دیوار ہے اُس کی مرمت کاکام تیزی سے جاری ہے جو دو تہائی تو ہو چکا ہے اور اُمید ہے کہ باقی کام چند ماہ میں مکمل کر لیا جائےگا۔


شالا مار باغ میں مغلوں کے دور کا ایک زیر زمین گرم حمام دریافت ہوا تھا۔   اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انجم سلیم قریشی نے کہا کہ یہ حمام دراصل زمین کے اندر دبا ہوا تھا اور کھدائی کرتے وقت معلوم ہوا کے مغلوں کے دور میں یہ گرم حمام کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔   اُنہوں نے بتایا کہ وہ ایک بڑی ٹینکی کی شکل میں موجود ہے جس کو پائپوں کے ذریعے باہر سے جوڑا گیا ہے جہاں سے مغلوں کے دور میں اس کوگرم پانی فراہم کیا جاتا تھا۔  

 

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ اُس دور میں باغ سے باہر پانی گرم کرکے ان پائپوں کے ذریعے اس حمام تک پہنچتا تھا اور جب اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی ٹیموں نے اس کا معائنہ کیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ اس کو اس کی پرانی شکل میں بحال کیا جائے گا۔

 

امریکی فلاحی ادارے Getty Foundation نے اس کام کے لیے مالی وسائل فراہم کیے اور اس طرح یونیسکو اور پنجاب حکومت کے اشتراک سے گرم حمام کی بحالی کا کام اس برس جون میں مکمل کر ل لیا گیا تھا۔ 

 

اُنہوں نے کہا کہ عام لوگوں کے دیکھنے کے لیے اس حمام کو ابھی نہیں کھولا گیا لیکن باغ کے زیر زمین پانی کے نظام کو درست کرلینے کے بعد اس حمام کی نمائش بھی اُمید ہے کہ ممکن ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ لاھور کا تاریخی شالا مار باغ مغل بادشاہ شاہجہان نے تعیمر کروایا تھا اور تاریخ کے مختلف ادوار میں اس کے بیشتر حصوں کو نقصان پہنچتا رہا ۔ اُنیس سو ساٹھ سے پہلے تک لاھور کا روایتی میلہ چراغاں بھی اس باغ کے اندر ہی منعقد ہوتا تھا تاہم سابق صدر ایوب خان نے اس باغ کو قومی تحویل میں لے کر اس کی بحالی کی ابتدائی صورت پیدا کی۔

 

بعد ازاں آغا خان فاونڈیشن اور یونیسکو کے زیر اہتمام بین الاقوامی فلاحی ادارے اس باغ کی درست حالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرتے رہے۔  البتہ پنجاب حکومت کا تیس کروڑ روپے لاگت کا آٹھ سالہ منصوبہ اس باغ کی مرمت وبحالی کا سب سے بڑا منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ 

 

انجم سلیم قریشی کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد شالا مار باغ کو بین الاقوامی سطح پر بھی محفوظ سمجھا جائے گا کیونکہ پھر اس تاریخی ورثے کو وہ خطرات درپیش نہیں ہوں گے جو اس وقت ہیں۔