میری مرحومہ ماں راحہ کا تعلق بربر قبیلے نفیزہ سے تھا۔ اسی  سے مجھے ورثے میں سرخ بال ملے تھے، لیکن یہ بال اب میرے لیے وبال بن گئے تھے، کیوں کہ ان کی وجہ سے  مجھے دور سے پہچانا جا سکتا تھا۔ اوپر سے چھوٹے بچے کا ساتھ، جو ایک طرف تو میری شناخت کروا سکتا تھا دوسری طرف اس کی دیکھ بھال پلِ صراط پر چلنے کے مترادف تھی۔ اگرچہ اس کی ماں اسے جنم دینے کے کچھ ہی مہینوں بعد دنیا سے رخصت ہو گئی تھی لیکن رصافہ میں سینکڑوں کنیزیں اس کی خدمت پر مامور تھیں۔ مجھے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ اس عمر کے بچے کیا کھاتے اور کیا پیتے ہیں۔ لیکن جاں نثار بدر سائے کی طرح میرے ساتھ تھا، اس نے ان معاملات میں میری رہنمائی کی، ورنہ  اس کے بغیر ان کٹھن مراحل سے گزرنا ممکن نہیں تھا۔

رات ایک کھیت میں آدھے سوتے، آدھے جاگتے گزاری۔ ہر لمحے یہی دھڑکا تھا کہ عباسی اب پہنچے کہ تب پہنچے۔ صبح سویرے میں نے بدر کو کچھ رقم دے کر بھیجا کہ کہیں سے کھانے پینے کی چیزیں خرید لائے۔ اس نے واپس آتے آتے سہ پہر کر دی۔ خبر یہ تھی کہ میرے سر کی بھاری قیمت مقرر کر دی گئی ہے اور خوں خوارسپاہی ہر طرف شکاری کتوں کی طرح میری بو سونگھتے پھر رہے ہیں اور تمام شاہراہوں پر مخبر بٹھا دیے گئے ہیں۔

اگلے روز ہم نے ایک بار پھر مغرب کا سفر اختیار کیا۔ میں نے اپنے بال صافے میں چھپا لیے  تھے تاکہ کوئی پہچان نہ سکے۔ کسی بھی مصروف  راستے سے سفر کرنا ناممکن ہو گیا تھا، اس لیے  ہم معروف گزرگاہوں سے پہلو بچاتے، بستیوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے، لشٹم پشٹم مغرب کی سمت چلتے رہے۔ دن کی روشنی ہمارے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی، اس لیے ہم رات بھر پہاڑوں، دشتوں اور ویرانوں میں چلتے رہتے، اور پو پھٹتے ہی کہیں اوٹ دیکھ کر پڑ رہتے۔ کسی آبادی کے آثار دکھائی دیتے تو بدر جا کر کھانے پینے کی چیزیں خرید لاتا۔ کئی دن کے بعد وہ ایک قصبے سے دو گھوڑے خریدنے میں کامیاب ہو گیا، جس سےسفر میں سہولت پیدا ہو گئی۔  

مصر کی سرزمین پر پہنچتے پہنچتے  ہمیں چار ماہ لگ گئے۔ قاہرہ کے باہر ایک خستہ حال سرائے میں رک کر میں نے بدر کو سن گن لینے کے لیے شہر بھیجا۔ اس نے واپس آ کر نہایت مایوس کن خبریں سنائیں۔ مصر کے صوبے دار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ میں وہاں کا رخ کر سکتا ہوں، اس لیے  اس نے پہرے داروں کو ہوشیار کر دیا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ میں نظرآؤں تو میرا سر عباسی خلیفہ عبداللہ السفاح کو بھجوا کر بھاری مراعات حاصل کی جا سکیں۔

بدر نے بتایا کہ میری بہنیں بھی یہیں آئی ہوئی ہیں۔ میں نے رصافہ سے نکلتے وقت انھیں بتایا تھا کہ میں مصر کا رخ کروں گا۔ اگرچہ میرا قاہرہ جانا بے حد مخدوش تھا، لیکن بہنوں سے ملنا بھی اتنا ہی ضروری تھا۔ میں نے اپنے بالوں میں خصاب لگا کر انھیں سیاہ کیااور بدوؤں  کا سا حلیہ بنا کر اس مکان پر پہنچ گیا تھا جہاں میری وہ ٹھہری ہوئی تھیں۔

بہنیں مجھے دیکھ کر دیر تک روتی رہیں۔ تمام خانوادہٴ بنوامیہ کا صفایا ہو چکا تھا اور ہماری 92 سالہ خلافت تتر بتر ہو چکی تھی۔ ظالم عباسیوں نے امیہ  خاندان کے شیرخوار  بچوں تک کو نہیں بخشا تھا تا کہ ان میں سے کوئی بڑا ہو کر ان کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ السفاح، جس کے نام کا مطلب ہی خون ریز ہے، ہمارے خاندان کی دشمنی میں اس حد تک آگے چلا گیا تھا کہ اس نے  میرے اجداد کی قبریں تک کھود کر ہڈیاں جلا کر راکھ کر ڈالی تھیں۔ تاہم عرب روایات کے تحت سفاح نے خواتین کو ضرر نہیں پہنچایا تھا اورانھیں اجازت دی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہیں، جا سکتی ہیں۔ 

اگرچہ بہنوں سے مل کر میرا سینہ چھلنی ہو گیا تھا،  لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ دل میں نئے سرے سے اس بات کی لگن پیدا ہو گئی تھی کہ مجھے ہر حال میں حوصلہ برقرار رکھنا ہے، اور اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو مجتمع رکھنا ہے۔ خاندان کا واحد وارث ہونے کے باعث میرے کندھوں پر بنوامیہ کی وراثت کا بھاری بوجھ آ گیا تھا اور مجھے ہر حال میں اس امانت کا پاس رکھنا تھا۔

 میں نے اپنا بیٹا بہنوں کے حوالے کیا اور بدر کو لے کر آگے چل پڑا۔

برقہ (موجودہ لیبیا) کے صوبے دار عبدالرحمٰن ابنِ حبیب الفہری پر ہمارے خاندان نے خصوصی عنایات کی تھیں اوراسے  گوشہٴ گمنامی سے نکال کر  برقہ جیسے متمول صوبے کا امیر تعینات کیا تھا۔ وہ دمشق میں دربارِ خلافت میں  آیا کرتا تھا، جہاں وہ وقت بے وقت مرتے دم تک خاندانِ بنوامیہ کا ادنیٰ غلام بن کر رہنے کی قسمیں کھاتا رہتا تھا۔ ایک بار اس نے میرے سامنے کہا تھا کہ کاش مجھے کوئی ایسا موقع ملے کہ میں اس خاندان کےاحسان اتار سکوں۔

احسان اتارنے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو سکتا تھا؟ چناں میں بدر کو لے کر منزلوں پر منزلیں مارتا برقہ پہنچ گیا۔ لیکن میں جوں ہی اس کے دربار میں پہنچا، اس نے فوراً مجھے ہتھ کڑیاں پہنا دیں۔  انجام سرپر آ کھڑا ہوا تھا، لیکن ابنِ حبیب کے دل میں نہ جانے کیا آئی کہ اس نے ایک یہودی کاہن کو دربار میں بلا لیا اور اس سے پوچھا کہ تم نے کچھ عرصہ قبل  ایک لڑکے کے  بارے میں  پیش گوئی کی تھی کہ وہ مستقبل کا عالی شان بادشاہ بنے گا، جلدی سے بتاؤ کہ کیا یہ وہی لڑکا ہے، تاکہ میں اس کا سر اڑا دوں۔ کاہن خاصی دیر تک میرے چہرے کو غور سے تکتا رہا، پھر اس نے اپنی کتابوں میں کچھ دیر تک حساب کتاب کیا۔ آخر اس نے ابنِ حبیب کو مخاطب کر کے ایک عجیب سی بات کہی:

’اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لڑکا نہیں ہے جس کے بارے میں نے پیشن گوئی کی تھی۔ اور اگر تم اسے چھوڑ دو گے، تو ممکن ہے کہ یہ وہی ہو اور آگے چل کر ایک عظیم سلطنت کی بنیاد رکھے۔‘

یہ سن کر ابنِ حبیب اس حد تک تذبذب کا شکار ہوا کہ اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت مختل ہو گئی۔  آخر اس نے شش و پنج کے عالم میں مجھے آزاد کرنے کا حکم دے دیا۔

میں مسرت اور مایوسی کے ملے جلے جذبات دل میں لیے شہر سے باہر نکل آیا۔ قریب ہی ایک بربر قبیلے نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ اس قبیلے کے سردار ابو قرہ نے مجھے سراسیمگی کے عالم میں دیکھ کر شفقت کا برتاؤ کیا اور مجھے اونٹنی کا دودھ پینے کے لیے دیا۔ ابھی  دودھ کا پیالہ میرے ہونٹوں سے ہٹا نہیں تھا کہ  گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیں۔ میں نے ابو قرہ کو بتا دیا کہ یہ میرے دشمن ہیں جو مجھے پکڑنے آئے ہیں۔ ابو قرہ کی مہربان بیوی  تکفہ نے مجھے اپنے خیمے میں کپڑوں تلے چھپا دیا۔ تھوڑی دیر میں گھڑسوار قبیلے کے اندر پہنچ گئے اورخیمہ خیمہ تلاشی لینے لگے۔ ابوقرہ اور اس کے قبیلے کے دوسرے افراد نے صاف انکار کر دیا کہ یہاں کوئی اجنبی آیا ہے۔ چند سپاہی اس خیمے کے اندر بھی آ گئے جہاں میں چھپا ہوا تھا لیکن تکفہ نے اس قدر شور مچایا اورکہ وہ  سرسری طور  پر ادھر ادھر دیکھ کر چل دیے۔ تکفہ اور ابو قرہ کا احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔

برقہ کی زمین مجھ پر تنگ ہو چکی تھی۔ اس لیے میں وہاں سے نکل کر  کئی مہینوں کے جاں گسل صحرائی سفر کے بعد  بنی رستم کے علاقے تہارت پہنچ گیا۔ میں نےاپنا نام بدل لیا تھا اور اب میں   غائف المنصور کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تہارت میں مجھے خوش قسمتی سے مرحومہ ماں راحہ کا قبیلہ نفیزہ مل گیا۔ میرے ننھیالیوں نے میرا خیر مقدم کیا اورمیرے وہاں قیام کےدوران مجھے ہر ممکن سہولت بہم پہنچائی۔

لیکن آرام کرنا میرے منصوبوں میں شامل نہیں تھا۔ جوں ہی مجھے کسی حد تک سلامتی کا احساس ہوا، میں نے گھوم پھر کر آس پاس کے علاقوں میں بسے ہوئے بربر قبیلوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا، تاکہ ان کے سرداروں سے  واقفیت پیدا کر سکوں۔  میرے بربر خون کا مجھے بہت فائدہ ہوا اور ہر جگہ سے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اب مجھے نام چھپانے کی بھی ضرورت نہیں تھی چناں چہ میں نے اپنی اصل شناخت ظاہر کر دی۔

یہیں مجھے اندلس کے حالات و واقعات کا معالعہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ ویسے بھی مراقش اور اندلس کے درمیان صرف چند میل کی سمندری پٹی ہی حائل ہے، جہاں سے لوگ روزانہ آتے جاتے تھے۔

اندلس بری طرح سے اتھل پتھل کا شکار تھا۔ اگرچہ مسلمانوں کو طارق بن زیادہ کی فتح کے بعد وہاں اسلامی حکومت قائم کیے ہوئے 45 برس گزر چکے تھے، لیکن اس تمام عرصے میں حکمران اس قدر خلفشار کی حالت میں رہے کہ کسی امیر کو ایک سال گزارنا بھی مشکل سے نصیب ہوتا تھا، عرب بہ مقابلہ عرب، عرب بہ مقابلہ بربر اور بربر بہ مقابلہ بربر، غرض چومکھی جنگ جاری تھی۔ اندلس کے دو امیر السمح اور الغافقی بلادِ فرانس میں لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، جن کی وجہ سے یہ مملکت مزید انتشارمیں گھر گئی تھی۔

اندلس کا امیر یوسف الفہری تھا، اسے بھی میرے عم زاد خلیفہ مروان نے یہاں کا امیرمقرر کیا تھا، لیکن جوں ہی اموی تخت الٹا گیا، اس نے السفاح سے وفاداری ظاہر کرنے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ تاہم اس کے باوجود  مجھے بتایا گیا کہ اندلس کے بہت سے مقامی صوبے داراورعمال اب بھی بنو امیہ ہی کا دم بھرتے ہیں۔ ویسے بھی اندلس دمشق سے اتنی دور تھا کہ وہاں کی خبریں یہاں پہنچتے پہنچتے برسوں لگ جاتے تھے۔ یہاں کے لوگوں کے اپنے مسائل تھے، انھیں خلافت کی آویزشوں اور چپقلشوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔

مزید برآں،  بربروں کے ساتھ بھی الفہری کا رویہ بہت خراب تھا۔ میں نے اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے اندلس کے بربروں اور عربوں سے رابطے شروع کر دیے۔ اکثر امرا کی طرف سے مجھے حوصلہ افزا جوابات ملے۔ لیکن بہت سی باتیں فقط خط و کتابت سے طے نہیں ہو سکتی تھیں، اس لیے میں نے قابلِ اعتماد ملازم بدر کو اندلس بھیج دیا تاکہ وہ ان امرا کے ساتھ مذاکرات کر کے ان کے خیالات اور نیتیں جان سکے۔  میں نے اپنی شاہی مہر بھی بدر کو دے دی تھی تاکہ وہ باضابطہ طور پر میری طرف سے معاہدے کر سکے۔ مجھے خاص طور پر فوجی کمان دار ابو عثمان عبیداللہ کی حمایت کی سخت ضرورت تھی۔ اس کے آبا خلیفہٴ ثالث حضرت عثمان بن عفان کی ملازمت میں رہ چکے تھے، اس لیے مجھے امید تھی کہ وہ میرا ساتھ دے  گا۔   

میں نے بدر کے انتظار میں بحیرہٴ روم کے کنارے مغیلہ کےمقام پر ڈیرے ڈال دیے۔ اور پھر وہ دن آ گیا جب مجھے اس کی کشتی کا پھڑ پھڑاتا ہوا سفید بادبان نظرآ گیا۔ وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ دو اندلسی سردار بھی تھے۔ ان دونوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں جلد از جلد اندلس پہنچ جاؤں تو وہ اس کا تخت حاصل کرنے میں میری ہر ممکن مدد کریں گے۔

دیر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور ویسے بھی مجھے کوئی لمبی چوڑی تیاری نہیں کرنا تھی، اس لیے انھی کشتیوں میں بیٹھ کر سوئے اندلس چل پڑا۔

ہوا موافق تھی، ہماری کشتی ہوا کے زور پر بحیرہٴ روم کے نیلے پانیوں پرسرزمینِ اندلس کی طرف پھسلتی چلی گئی۔  دور سے مالقہ شہر کے آثار نظر آ رہے تھے۔شہر کے دائیں بائیں پہاڑیاں سبزے اور درختوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ میں نے زیادہ تر عمر شام  کے صحرائی میدانوں یا پھر افریقہ  کے بے آب و گیاہ دشتوں میں گزاری تھی۔ رصافہ سے بھاگے ہوئے مجھے پانچ برس گزر چکے تھے، لیکن اس دوران ملنے والی صعوبتوں سے میری ہمت ماند پڑنے کی بجائے دل میں بھڑکتی آگ تیز تر ہو گئی تھی۔

میں چھوٹی سی کشتی میں بیٹھا اندلس کی جانب رواں دواں،عالمِ حیرت میں ادھر ادھر بکھرے قدرتی جلووں کو اپنی آنکھوں میں سموتا رہا۔ تاریخ کے پہیے  نے مجھے اس مقام تک تو پہنچا تو دیا تھا، لیکن اس سے آگے میری تقدیر میں کیا لکھا تھا، یہ میں نہیں جانتا تھا۔

۔۔۔ جاری ہے