16.09.08
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ اندلس میں عظیم الشان اموی سلطنت کی داغ بیل
ہم چند گھنٹوں کے اندر اندر اندلس کے ساحلی شہر مالقہ کےقریب واقع قصبے المونیکار پر اتر گئے۔ سورج ڈھل رہا تھا، میں نے کشتی سےاترتے ہی ساحل کی ریت پر نمازِ مغرب ادا کی۔ یہیں ابو عثمان اور اس کا داماد ابنِ خالد میرے استقبال کے لیے موجود تھے، انھوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
یہ سال 756 کے بہار کا موسم تھا۔ ہر طرف اندلس کاقدرتی حسن جوبن پر تھا۔ میرے خدشات کے بادل رفتہ رفتہ چھٹنے لگے۔ راتوں رات مالقہ اور اس کے نواحی قصبوں اور دیہات میں میری آمد کی اطلاع جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ صبح سویرے ہی مختلف وفود آنا شروع ہو گئے جن کا ہر فرد میرے ہاتھ پر بیعت کرنے کامشتاق تھا۔ کچھ ہی دیر بعد مراقش سے ایک ہزار بربر سپاہیوں پر مشتمل دستہ بھی آ پہنچا۔
چند دن مالقہ میں ٹھہر کر ہم نے قرطبہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔اس دوران میرے ارد گرد ایک اچھا خاصالشکر اکٹھا ہو گیا تھا۔ جس سے ایک طرف تو میری حوصلہ افزائی ہوئی، لیکن دوسری طرف ان کے لیے خوراک مہیا کرنے کا مسئلہ اکٹھا ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے بھاری خزانے اور رسد کی ضرورت تھی، جس سے ہم بالکل عاری تھے۔ اندلس گذشتہ کئی برسوں سے قحط سالی کی زد میں تھا جس سے خوراک میں مزید کمی واقع ہو گئی تھی۔ میرے سپاہی راستے میں جڑی بوٹیاں اور پتے ابال کر کھاتے رہے، لیکن اس کے باوجود ان کے جوش و جذبے میں کمی نہیں آئی۔
چند ہی دن بعد ہم اشبیلیہ پہنچ گئے۔ شہر کے دروازے میرے لیے کھول دیے گئے اور ہر طرف سے ’عبدالرحمٰن ابنِ معاویہ زندہ باد‘کے نعرے سنائی دینے لگے۔
میرے لشکر میں ہر لمحے اضافہ ہو رہا تھا اور ملک کے طول و عرض سے فوجی آ آ کر شامل ہو رہے تھے۔ جہاں یہ بات میرے لیے بے حد مسرت کا باعث تھی، وہیں لشکریوں کی روزافزوں تعداد سے رسد اور وسائل کا مسئلہ بھی مزید شدت پکڑ گیا تھا۔ میں خود تمام لشکر میں گھوم پھر کر سپاہیوں کی ہمت بندھائے رکھنے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔
اندلس کا امیر یوسف الفہری نو برس سے اندلس کے تخت پر براجمان تھا اور مجھے معلوم تھا کہ وہ آسانی سے دست بردار نہیں ہو گا۔ہم نے اشبیلیہ سے نکل کر دریائے الکبیر کے ساتھ ساتھ قرطبہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ جب ہم مسارہ کے مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ الفہری وہاں اپنی فوج لے کر خم ٹھونک کر مقابلے کے لیے تیار کھڑا ہوا ہے۔
اس کی فوج کیل کانٹے سے لیس تھی۔ ان کے پاس خوراک کے بھی بے پناہ ذخیرے موجود تھے۔ اس کے فوجی ہمارے سپاہیوں کی حالتِ زار سے خوب واقف تھے، وہ ہمارے لشکر کے عین سامنے قطاروں میں بکرے پکاتے اور ہمارے فاقہ کش سپاہیوں کو دکھا دکھا کر ان کی بھنی ہوئی رانیں کھاتے تھے۔
مئی کا وسط آ چکا تھا، عیدِ قرباں کا دن تھا، کہ لڑائی کا آغاز ہوا۔اب تک کسی نے مجھے میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اس لیے مجھے علم تھا کہ کئی سرداروں کے دلوں میں میری حربی صلاحیتوں کی بابت شکوک و شبہات موج زن ہیں۔
ایک اندلسی امیر نے سواری کے لیے مجھے سفید رنگ کا ایک شان دارعربی گھوڑا دیا تھا،لیکن جب میں اس پر سوار ہو کر لشکر کی صفوں کا معائنہ کرنے نکلا تو مجھے سرگوشیاں سنائی دیں۔ بعض یمنی سردار کہہ رہے تھے کہ میں نے یہ برق رفتار گھوڑا اس لیے حاصل کیا ہے کہ اگر پسپائی اختیار کرنی پڑے تو میدانِ جنگ سے فرار ہونے میں سہولت ہو۔
لڑائی شروع ہونے سے عین پہلے اس قسم کی بدگمانیاں بے حد خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں۔ مجھے فوری طور پران کا سدِباب کرنا تھا، چناں چہ میں اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر یمنیوں کے سردار ابوالصباح کے پاس چلا گیا اور اس سے شکایتاً کہا کہ ’پتا نہیں یہ کس قسم کا گھوڑا ہے، کہ میرے قابو ہی میں نہیں آ رہا۔ ایسا کرو کہ تم اسے لے لو۔‘یہ کہہ کر میں گھوڑے سے اتر آیا اور ایک مفلوک الحال سپاہی کا خچر لے کر اس پر سوار ہو گیا۔ واپس آتے ہوئے میں نے مڑ کر دیکھا۔ میرے اس غیر متوقع اقدام سے یمنیوں کے منھ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔
جنگ کا طبل بجا۔ میں اپنا خچر سب سے اگلی صف میں لے گیا۔ یلغار کے وقت میں پہلی قطار میں پیش پیش تھا، تاکہ اگر کسی کو میری جنگی مہارت پر شک ہے تو وہ زائل ہو جائے۔ الفہری کا سپہ سالار ابو سامل بڑی بے جگری سے لڑا، لیکن ہماری فوج کے زبردست جذبے کے سامنے اس کی پیش نہ گئی۔ شام ہوتے ہوتے ہماری شان دار فتح مکمل ہو چکی تھی۔ الفہری کی فوج ایسی تتر بتر ہوئی کہ جس سردار کا جدھر منھ اٹھا، وہ ادھر کو بھاگ کھڑا ہوا۔ خود الفہری چند فوجیوں کے ساتھ میریدا کی طرف فرار ہو گیا۔
اب میرے لیے اندلس کے دارالحکومت قرطبہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہ گئی تھی۔ تاہم میں نے قرطبہ کی دیواروں کے باہر ڈیرے ڈال دیے اور تین دن تک اپنے لشکر کے ساتھ وہیں مقیم رہا تاکہ الفہری کے خاندان کی خواتین آرام سے وہاں سے نکل جائیں۔ اس کے علاوہ میں نے تمام دشمن سپاہیوں کے لیے مکمل معافی کا اعلان بھی کیا
۔
قر طبہ کی عنانِ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی مسائل کم نہیں ہوئے اور ابو سامل اور الفہری کی طرف سے شورش کا سلسلہ جاری رہا، لیکن اب تاریخ کا دھارا میرے حق میں مڑ چکا تھا، اور یہ فتنے میرے لیے معمولی دردِ سر سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ میرے جرنیلوں نے یکے بعد دیگرے تمام باغیوں کا صفایا کر دیا۔
تاہم جب عباسیوں کو میری کامیابیوں کی خبر ملی تو انھیں سخت تشویش لاحق ہو گئی۔السفاح کے بعد تخت سنبھالنے والے خلیفہ ابوجعفر المنصور نے شمالی افریقہ کے والی ابنِ مغیث کو لکھا کہ وہ میری سرکوبی کے لیے ایک بحری بیڑا لے کرفوراً اندلس پر چڑھائی کر دے تاکہ اسے بھی عباسی خلافت میں شامل کیا جاسکے۔ ابن مغیث نے 763ء میں ایک بڑی فوج اکٹھی کی اور اندلس پر چڑھ دوڑا۔
لیکن اب میں وہ بے یار و مددگار مفرور نہیں تھا جو عباسیوں کے ڈر سےزمین کے طول و عرض میں چھپتا پھرتا تھا۔ اب میں ایک بڑی سلطنت کا حکمران تھا، عباسی ایک بار تو کامیاب ہو گئے تھے لیکن اب وہ مجھ سے اتنی آسانی سے یہ سب کچھ نہیں چھین سکتے تھے۔ جب ابومغیث کی فوج اشبیلیہ کے قریب خیمہ زن ہوئی تو میرے دستوں نے اس پر ایک رات اس قدر اچانک شب خون مارا کہ انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تمام جارح فوج کا صفایا کر دیا گیا۔ مرنے والوں میں خود ابومغیث اور اس کے تمام سرکردہ سردار شامل تھے۔ اب میں نے فیصلہ کیا کہ عباسیوں کو انھی کی زبان میں جواب دیا جائے۔ میں نے ان تمام سرداروں کے سر سیاہ عباسی پرچموں میں لپیٹ کر مکہ بھجوا دیے جہاں عباسی خلیفہ المنصور حج کرنے کے لیے گیا ہوا تھا۔
مجھے بتایا گیا کہ جب المنصور نے یہ سر دیکھے تو وہ تھرا اٹھا اور اس کے منھ سے نکلا، ’شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمارے درمیان سمندر حائل کر رکھا ہے۔‘ منصور ہی نے مجھے’صقرِ قریش‘، یعنی ’قریش کا عقاب‘ کا خطاب دیا تھا۔
تمام دشمنوں کی طرف سے اطمینان ہونے کے بعد میں نے اپنی توجہ انتظامی اور ریاستی امور پر مرکوز کر دیں اور ان تمام مسائل کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جن کی وجہ سے اندلس اتنے عرصے سے بدنظمی کا شکار تھا۔ اموی خلافت میں امورِ سلطنت کی تربیت اس سلسلے میں میرے بہت کام آئی۔ میں نے ملک کے طول و عرض میں سڑکیں بنوائیں، نہریں نکلوائیں اور قرطبہ کے قریب جو رومی آب ریز نہریں شکست و ریخت کا شکار ہو چکی تھیں، ان کی مرمت کروائی۔
تمام اسلامی دنیا کی خلافت نہ سہی، دمشق میں رصافہ کے محلات نہ سہی، لیکن میں بنو امیہ کی راکھ سے سرزمینِ یورپ پر ایک نئی اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اگرچہ میں نے اپنے بیٹے سلیمان کو قرطبہ بلا لیا تھا، لیکن میری بہنیں اتنا طویل سفر نہیں کر سکیں اور میں انھیں دوبارہ دیکھنے سے محروم رہا۔ تاہم ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ تمام اسلامی دنیا سے اموی خاندان کے افراد ، وفاداروں اور ہم دردوں نے جوق در جوق اندلس کا رخ کرنا شروع کر دیا، جن سے مجھے میرے کاروبارِ سلطنت میں بہت مدد ملی۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھار وطن کی یاد ستاتی تھی، اور میں شاعری کے ذریعے دل کا غبار کسی حد تک دور کر لیا کرتا تھا۔
میں نے دمشق کے باہر رصافہ کے محلات کی طرز پر قرطبہ سے باہر رصافہ ہی کے نام سے محل بنوایا اور اس میں شام کی یاد میں کھجور کے درخت لگوائے۔ انھی میں سے ایک درخت کو دیکھ میں نے نظم لکھی تھی:
ميری آنکھوں کا نور ہے تو
ميرے دل کا سرور ہے تو
اپنی وادی سے دور ہوں ميں
ميرے ليے نخل طور ہے تو
مغرب کی ہوا نے تجھ کو پالا
صحرائے عرب کی حور ہے تو
پرديس ميں ناصبور ہوں ميں
پرديس ميں ناصبور ہے تو
غربت کي ہوا ميں بارور ہو
ساقی تيرا نم سحر ہو
عالم کا عجيب ہے نظارہ
دامان نگہ ہے پارہ پارہ
ہمت کو شناوری مبارک
پيدا نہيں بحر کا کنارہ
ہے سوز دروں سے زندگانی
اٹھتا نہيں خاک سے شرارہ
صبح غربت ميں اور چمکا
ٹوٹا ہوا شام کا ستارہ
مومن کے جہاں کی حد نہيں ہے
مومن کا مقام ہر کہيں ہے