میرا نام کاؤنٹ گونزالز ہے اور میرا تعلق شمالی سپین کی ریاست نوارے سے ہے۔  مجھے ایک وفد لے کر  قرطبہ کے خلیفہ عبدالرحمٰن ثالث کی خدمت میں  قرطبہ پیش ہونا تھا۔ چناں چہ میں 949ء میں اپنے وفد کے ہمراہ جزیرہ نما آئبیریا کے وسط میں واقع اموی خلافت کے مرکز قرطبہ پہنچا۔  صدر دروازے کے باہر ہمارا استقبال کیا گیا۔

سب سے پہلے تو ہمیں مسجدِ قرطبہ کی سیر کرائی گئی۔ مسجد کی عظمت و شکوہ اور اس کے اندر گہماگہی دیکھ کر جو قصے سنے تھے ان پر کچھ کچھ یقین آنے لگا۔  اس کے بعد ہمیں قرطبہ کی گلیوں اور بازاروں سے گزارا گیا جہاں ریشم، اطلس، جواہرات کی زرق برق دکانوں کے ساتھ ساتھ کتابوں کی بھی سینکڑوں دکانیں تھیں۔ آخر یہ قرطبہ تھا جو اپنی علوم و فنون، شعر و ادب اور ریاضی وفلکیات کے لیے مشہور تھا۔
اس وقت قرطبہ کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی، جو اس دور کے لندن، پیرس اور روم کی مشترکہ آبادیوں سے بھی زیادہ تھی۔ دنیا میں صرف بغداد اور قسطنطنیہ دو ایسے شہر تھے جو شان و شوکت میں قرطبہ کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ لیکن خلیفہ سے ملنے کے لیے ہمیں پانچ میل دور نئے بسائے گئے شہر مدینہ الزہرا جانا تھا۔

قرطبہ سے لے کر مدینہ الزہرا تک سڑک کے دونوں اطراف چمکیلی زرہ بکتریں پہنے سپاہی قطار اندر قطار کھڑے تھے، جن کے ہاتھوں میں بے نیام تلواریں تھیں۔ اس فوج ظفر موج کی شمشیر ہائے آب دار کے سائے سائے ہوتے ہوئے ہمارا وفد مدینہ الزہر ا کے صدر دروازے تک پہنچا جس کی وسعت اور عظمت بیان سے باہر ہے۔ دروازے کی چھت پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں سے کاٹ کرمسجدِ قرطبہ کی آرائشی محرابوں کی طرز پر بنائی گئی تھی۔ اور دروازہ اس قدر بڑا تھا کہ اس سے رتھوں کی قطاریں باآسانی گزرسکتی تھیں۔

دروازے سے اندر کا منظر مبہوت کر دینے والا تھا۔ شاہی شہر ایک پہاڑی کے اوپر پھیلا ہوا تھا۔ سورج کی کرنیں شہر کی عمارتوں کے دروازوں پر لگی چاندی کی کنڈیوں سے منعکس ہوتی تھیں۔ ہم اپنے محافظوں کے جلو میں  ہرے اور نیلے رنگ کی ٹائلوں سے بنی سڑک پر چلتے گئے  جس کے دونوں اطراف سنگِ مرمر کی دیواریں تھیں۔

شاہی محل سے پہلے گزوں تک کم خواب کے قالین بچھے ہوئے تھے جس کے باہر سرخ ریشم میں ملبوس ، سروں پر جڑاﺅ پگڑیاں باندھے، سونے کے قبضوں والی تلواریں باندے ہوئے درباری گھوم پھر رہے تھے۔

 
مدینہ الزہرا کی تھری ڈی ویڈیو ملاحظہ کیجیئے جس میں اصل شہر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے
ایک عالی شان کمرے میں بلند کرسیوں پرریشم و کم خواب میں ملبوس شہر کے عمائد اس شاہانہ کروفر سے بیٹھے تھے کہ ہمارے وفد کے بعض ارکان  خلیفہ سمجھ کر ان کے آگے جھک گئے۔ لیکن  ہمارے راہ بر  نے آواز لگائی، ’سر اٹھائیے، کہ یہ تو خلیفہ کے ملازموں کے ملازم ہیں۔‘

اگرکوئی کسر رہ گئی تھی تو وہ سفیروں کے بڑے استقبالیہ ہال میں پہنچ کر پوری ہو گئی۔ اس عظیم الشان ہال کے اوپر چھت نہیں تھی۔منقش مرمریں دیواروں پر لٹکے ہوئے ریشمی پردے ہوا میں ہولے ہولے جھول رہے تھے۔ فرش پر بچھے قالینوں پر ایسے خوش نما نقش بنے ہوئے تھے کہ ان  پر چلتے ہوئے بے ادبی کا احساس ہوتا تھا۔

ہال کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا طشت پارے سے بھرا پڑا تھا۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے جب ہوا کے جھونکے سے پارے کی سطح مرتعش ہوئی تو ہال کی چھت اور دیواروں پر جڑے قیمتی پتھروں اور شیشوں سے بننے والے عکس میں رنگوں اور روشنیوں کا بھونچال آ گیا، جس نے ہماری آنکھیں چکاچوند کر دیں۔
ہال بالکل خالی تھا۔ ہال سے گزر کر آگے پہنچے تو وہاں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس کے فرش پر ریت بچھی ہوئی تھی۔ کمرے کے بیچوں بیچ پیوند لگی گدڑی اوڑھے ہوئے ایک شخص بیٹھا تھا جس نے چولہے میں آگ جلا رکھی تھی اور وہ اس میں پھونکیں مار کر شعلے بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک رحل پر قرآن رکھا ہوا تھا اور قریب ہی ایک تلوار پڑی تھی۔

یہ اندلس کی تاریخ کا سب سے عظیم شہنشاہ خلیفہ المومنین عبدالرحمن ثالث تھا۔
 

*****


عبدالرحمن ثالث کا دور اندلس کی تاریخ کا سنہرا دور کہلاتا ہے۔ عرب مصنفین اس کی تعریف میں پروپیگنڈے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اپنے انچاس سالہ اقتدار میں اس نے اندلس کو ایک مستحکم اور خوش حال ریاست بنانے میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے اعتماد اور تیقن کی ایک روشن مثال 929ءکے جنوری کے ایک جمعے دن دیکھنے میں آئی جب مسجدِ قرطبہ میں نماز پڑھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں نمازیوں کے مجمعے نے خطبے میں خلیفہ بغداد کی بجائے عبدالرحمن ثالث کا نام سنا۔ اس سے پہلے اگرچہ اندلس خود مختار تھا اور اس کے تعلقات عباسیوں سے مخاصمانہ تھے، لیکن اس کے باوجود اندلس کی حیثیت خلافتِ عباسیہ کا ایک صوبے کی سی تھی، اور اس کے حکمران امیرکہلاتے تھے۔

لیکن عبدالرحمن ثالث کے نام سے خطبہ جاری ہونے کا مطلب یہ تھا کہ اندلس اب مکمل طور پر عباسیوں کے تسلط سے آزاد ہو چکا ہے اور یہ کہ امتِ اسلامیہ صرف بغداد ہی میں مرکوز نہیں۔ خلافت کا وہ حق جو عبدالرحمن اول اپنے خون میں لے کر قرطبہ پہنچا تھا، اب نسل در نسل عبدالرحمن ثالث کو منتقل ہو چکا تھا، جس کی اس نے برسرِ منبر تشہیر کروا کے دنیا کو باور کرانا چاہا کہ اب اندلس بغداد کی اس سپر پاور کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہو چکا ہے۔

لیکن عبدالرحمن جانتا تھا کہ کھوکھلے دعووں سے کچھ نہیں بنتا۔ بغداد کا ہم پلہ بننے کے لیے فوجی طاقت کے علاوہ علوم و فنون میں بھی ترقی کی ضرورت ہے۔ چناں چہ خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلا کام جو اس نے کیا وہ قرطبہ کے نواح میں ایک نئے شہر کی تعمیر تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے عباسیوں نے پرانا دارالحکومت ترک کے بغداد کے مقام پر نیا شہر بسایا تھا، ویسے ہی عبدالرحمن نے اپنی خلافت کا اعلان نئے دارالخلافے سے کیا۔

لیکن عبدالرحمن ایک عام دارالخلافہ نہیں بسانا چاہتا تھا، اس سلسلے میں اس کے عزائم کا سر آسمان سے ٹکراتا تھا۔ چند برسوں کی منصوبہ بندی، نقشہ سازی اور مناسب محلِ وقوع کی چھان بین کے بعد 936ءمیں مدینہ الزہرا پر کام شروع ہو گیا۔ یہ بات مشہور ہے کہ شہر کا نام خلیفہ کی محبوب ملکہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ گو یا آپ کو اس کو بڑے پیمانے پر تاج محل بھی سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن جدید دور کے بعض ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس شہر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ زہرا کا مطلب' کھلتا ہوا پھول' ہے۔ شہرکے قریب ایک پہاڑی پر انتہائی خوش بودار پھولوں کے قطعات دور تک پھیلے ہوئے تھے ، جسے جبل الوردت یا پھولوں کا پہاڑ کہا جاتا تھا۔

مدینہ الزہرا پہاڑی پر بسایا گیا تھا، اس کے تین درجے تھے، سب سےعام شہریوں اور سپاہ کے گھروں تھے۔ ان سے ایک منزل کی اونچائی پر انتظامیہ کے دفاتر اور رﺅسا اور درباریوں کے محلات تھے، جب کہ سب سے اوپر شاہی محل 'دارالملک' تھا۔ تاریخ دان المقری لکھتا ہے کہ شہر کے اندر باغات لگائے گئے تھے جن کے اندر مختلف ممالک سے نایاب درخت لا کر اگائے گئے تھے۔ باغات اور شہر کے لیے بہت دور سے رومی طرز کے ستونوں پرقائم نہروں کے ذریعے پانی لایا گیا تھا۔

لیکن مدینہ الزہرا صرف تعمیراتی عجوبہ ہی نہیں تھا۔ یہیں علم و فنون کے چشمے پھوٹتے تھے۔ ازمنۂ وسطیٰ کے مشہور ترین سرجن الزہراوی نے یہیں بیٹھ کر اپنے جراحی کے آلات بنائے تھے جو بیسویں صدی تک مغرب میں استعمال ہوتے تھے۔ اندلس کا سب سے بڑا شاعر ابنِ حزم مدینہ الزہرا کے محلات ہی میں پلا بڑھا تھا۔

جیسا کہ تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے، مادی اور ثقافتی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوتی جب تک اسے معیشت کی مضبوط پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ دسویں صدی عیسوی کے اندلس کے اس خیرہ کن جاہ و جلال کی اصل ملک کی دولت مندی تھی۔ عربوں نے مشر قِ وسطیٰ کے صحراﺅں میں پانی کو مسخر کرنے کے طریقے سیکھے تھے،وہ آب پاشی کی یہ جدید ترین ٹیکنالوجی ساتھ لے کر آئے تھے جس نے جزیرہ نما ہسپانیہ کی سرزمین کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ وہ علاقے جہاں بارشیں سالوں بعد ہوتی تھی، نہری جال کی مدد سے سونا اگلنے لگیں۔ چناں چہ آج بھی ہسپانوی زبان عربی کی زرعی اصطلاحات سے مالامال ہے۔

قرطبہ کو دسویں صدی عیسوی میں اس وقت عروج حاصل ہوا جب بغداد ہارون رشید اور مامون رشید کاسنہرا دور دیکھ چکا تھا۔ قرطبہ کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کی گہماگہی کی ایک بڑی وجہ اس کے باشندوں کی علم دوستی تھی۔ قرطبہ اس وقت بالکل ایسے ہی دنیا کا مرکز تھا، جیسے نویں صدی میں بغداد ، انیسویں صدی میں پیرس اور بیسویں صدی میں لندن دنیا کے مرکز تھے۔ سترھویں صدی کا عرب تاریخ داں المقری لکھتا ہے:

'قرطبہ چار چیزوں میں دنیا بھر سے آگے تھا، الزہرا کے شاہی محلات، دریائے الکبیر پر تعمیر کردہ پل، مسجدِ قرطبہ اور ان سب سے بڑھ کر علم و فضل۔'

اس علم و فضل فراوانی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے آٹھویں صدی کے وسط ہی میں چینیوں سے کاغذ بنانے کا فن سیکھ لیا تھا۔ ویلنسیا کے ساحلی شہر کے قریب جیٹی وا کے مقام پر کاغذ بنانے کا کارخانہ قائم کیا تھاجہاں کپاس سے کاغذ بنایا جاتا تھا۔ چمڑے کو تحریر کے قابل بنانا بے حد وقت طلب اور مہنگا مشغلہ تھا۔چناں چہ اکثر اوقات پہلے سے موجود چمڑے پر لکھی گئی کتابوں کو دھو کر ان پر نئی کتابیں تحریر کی جاتی تھیں۔

اس سلسلے میں 2007ءایک چونکا دینے والی خبر آئی کہ یونانی مفکر ارشمیدس نے ریاضی کی ایک شاخ کیلکیولس دو ہزار سال قبل ہی دریافت کر لی تھی۔ عام طور پر نیوٹن اور لائبنز کو اس علم کا بانی سمجھا جاتا ہے، جنھوں نے سترہویں صدی میں الگ الگ اس بے حد مشکل علم کو دریافت کیا تھا۔

ہوا یوں کہ قسطنطنیہ کے تیرھویں صدی کے ایک راہب کو کہیں سے ارشمیدس کی وہ کتاب ملی جس میں کیلکیولس کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ راہب نے اپریل 1229ءچمڑے پر لکھی ہوئی اس کتاب کی روشنائی کو دھوکراس پر نئے سرے سے مذہبی دعائیں لکھ ڈالیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر یہ کتاب پہلے مل جاتی تو عملِ ریاضی آج کے مقابلے پر پانچ سو برس زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔

مسدسِ حالی

نصیب ان کا اشبیلیہ میں ہے سوتا

شب و روز ہے قرطبہ ان کو روتا

کوئی قرطبہ کے کھنڈر جاکے دیکھے

مساجد کے محراب و در جاکے دیکھے

حجازی امیروں کے گھر جاکے دیکھے

خلافت کو زیر و زبر جاکے دیکھے

جلالا ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا

کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا 

عبدالرحمن ثالث کا جانشین خلیفہ حکم ثانی بھی علم و دانش کا دل دادہ تھا۔اس کے ذاتی کتب خانے میں چار لاکھ سے چھ لاکھ کتابیں موجود تھیں۔اس کے مقابلے پر سوئٹزلینڈ میں واقع بقیہ یورپ کے سے بڑے کتب میں صرف چار سو کتابیں تھیں جو بھیڑ یا بکری کی کھال پر لکھی گئی تھیں، قرطبہ کی صرف ایک لائبریری میں چار لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔

لائبریری کا کیٹلاگ چوالیس جلدوں پر محیط تھا۔ حکم ثانی نے کتابوں کے ایجنٹ مقرر کر رکھے تھے جو دنیا بھر سے ا س کے لیے کتابیں خرید کر لاتے تھے۔ کتب خانہ صرف خلیفہ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس سے استفادہ کرنے کے لیے ہر کسی کو صلائے عام تھی۔ خلیفہ نادار طلبا کو وظائف بھی فراہم کیا کرتا تھا۔

یہ وہ معاشرہ تھا جہاں مسلم، عیسائی اور یہودی نہ صرف ساتھ ساتھ رہتے تھے، بلکہ ہر دو اہلِ کتاب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ عبدالرحمن کا وزیر ایک یہودی ہسدائی بن شپروُت تھا، جس کا شمار یہودی تاریخ کے عظیم ترین دانش وروں میں کیا جاتا ہے۔ ہسدائی نہ صرف داخلی امورِ سلطنت میں اہم کردار ادا کرتا تھا، بلکہ اسے وزیرِ خارجہ کی حیثیت بھی حاصل تھی۔

بالکل جیسے عبدالرحمن نے بغداد کے ساتھ تعلقات توڑکر اپنی تازہ بستی بسالی تھی، ویسے ہی ہسدائی نے بھی یہودیت کا مرکز بابل سے اندلس منتقل کردیااور اب یہودیوں کے تمام مذہبی معاملات، تہواروں کی تواریخ کا تعین اور قانونی مسائل کی توجیہ و تعبیر قرطبہ سے ہونے لگی۔
ہسدائی نے سن رکھا تھا کہ وسطیٰ ایشیا میں یہودیوں کی ایک طاقت ور سلطنت آباد ہے جس کا نام خَضر ہے ۔ اس نے خضر کے بادشاہ کے نام خطوط لکھے جن میں اس نے اندلس کی عظمت کے گن گائے ہیں:

جنابِ والا:
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ ہماری سرزمین مقدس عبرانی میں سیفرارید کہلاتی ہے، جب کہ اس کے اسماعیلی باسی(یعنی مسلمان) اسے اندلس کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کی سلطنت کا نام قرطبہ ہے۔یہ غلے، شرابوں اور خالص مٹی کی سرزمین ہے۔ یہاں پودوں کی بہتات ہے اور یہ ملک ہر طرح کی مٹھاس کی جنت ہے۔ اس کے باغوں میں ہر قسم کا پھل اگتا ہے۔ یہاں ایسے درخت ہیں جس کے پتو ں میں ریشم کا کیٹرا پلتا ہے۔ ہم اپنی سرزمین کے پہاڑوں سے سونے، چاندی، تانبے ، لوہے، قلعی، سرمہ، بلور اور سنگِ مرمرنکالتے ہیں۔ہمارے بادشاہ کا خزانہ سونے، چاندی اور جواہرات سے لبالب ہے اور اس کی فوج کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ایسی فوج پہلے کبھی دیکھی یا سنی نہیں گئی۔ جب دوسرے ملکوں کے والی ہمارے بادشاہ کی شان و شوکت کے بارے میں سنتے ہیں تو اس کی خدمت میں نذرانے پیش کرتے ہیں۔

اس وقت کون کہہ سکتا تھا اس عروس البلاد، اس زیورِ دنیا کی شان و شوکت کے اندر ہی اس کی خرابی مضمر ہے جو چند عشروں کے اندر اندر اسے جلا کر راکھ کر ڈالے گی؟