امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ اگر افغانستان کے صدر حامد کرزئى یہ چاہتے ہیں کہ انہیں واشنگٹن سے مسلسل غیر فوجی امداد ملتی رہے تو انہیں بدعنوانیاں ختم کرنے کے لیے لازماً مزیہ کوشش کرنا ہوگی۔
کلنٹن نے اتوار کے روز امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک اے بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ چاہتی ہے کہ افغان حکومت، انسدادِ بدعنوانی کا ایک کمیشن اور کوئى اہم فوج داری عدالت قائم کرے۔
انہوں نے کہا ہے کہ واشنگٹن اس بات کی “تصدیق” بھی چاہتا ہے کہ افغانستان بھیجی جانے والی امریکہ کی ہر غیر فوجی امداد کا انتظام حکومت کی وہ وزارتیں کریں، جن سے جواب طلب کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان کے بدعنوان عہدے داروں کو قانونی کارروائى سے “کوئى امان” نہیں ملنی چاہیے۔
صدر کرزئى کو پچھلے مہینے جب سے دھاندلی کے الزامات سے داغدار الیکشن میں متنازع کامیابی حاصل ہوئى ہے، اپنی حکومت میں بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
کلنٹن نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ واشنگٹن کے لیے افغانستان میں کوئى “طویل المعیاد فریضہ” نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کے سامنے بنیادی مقصد، کوئى جدید افغان جمہوریت تعمیر کرنے کی بجائے القاعدہ کو شکست دینا ہے۔

