امریکہ کے دو سینیر سفارت کاروں  نے برما کے فوجی راہنماؤں سے مذاکرات کا آغاز کر دیاہے جو دونوںملکوں کے درمیان ایک عشرے سے زیادہ عرصے میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والا  رابطہ ہے ۔

برمامیں  امریکی سفارت خانےکے عہدے داروں نے کہا ہےکہ مشرقی ایشیا  کےلیے امریکہ کے اعلٰی ترین سفارت کار ، معاون وزیر خارجہ کرٹ کیمپبل ،  اور ان کے نائب سکاٹ مرسیل نے منگل   کے روز  ملک کے انتظامی دار الحکومت نائے پیدا میں وزرا کی سطح کے عہدے داروں سے ملاقات کی ۔
توقع ہے کہ امریکی وفد بدھ کی صبح برما کے وزیر اعظم جنرل تھین سین سے ملاقات کرے گا۔  جب کہ بدھ کی ہی  شام وہ   رنگون میں حزب اختلاف کی زیرحراست  راہنما آنگ ساں سوچی اور ان کی پارٹی  نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کے دوسرے لیڈروں سے ملے گا۔

ستمبر 1995 میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر میڈلین آل برائٹ کے دورے کے بعد سے  مسٹر کیمپبل برما کا دورہ کرنے والے امریکہ کے اعلیٰ ترین عہدےدار ہیں ۔  

امریکی عہدے داروں کا یہ دورہ واشنگٹن کی اس  تازہ کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد برما کی فوجی حکومت کو الگ تھلگ کرنے کی بجائے اس سے براہ راست رابطوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہے۔