بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے حریف ملک پاکستان کوتمام مسائل پر بات چیت کی پیش کش کی ہے بشرطیکہ وہ اپنے ملک میں قائم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔من موہن سنگھ نے بھارتی کنٹرول کے کشمیر کے دورے کے دوران علاقے کی علیٰحدگی پسند تنظیموں سے بھی بھارتی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے کہا ہے۔
بھارتی زیر انتظام کشمیر کے ضلع اننت نگ میں ریلوے لائن کے افتتاح کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان متعدد امور مثلا تجارت اورہمالیائی خطے کی منقسم سرحد کے آرپار رہنے والے خاندانوں کے لیے سفر کے ضابطے نرم بنانے کے سلسلے میں مذاکرت کرسکتے ہیں۔
لیکن مسٹر سنگھ نے کہا کہ باآور مذاکرات کے لیے پاکستان کو اپنی سرزمین پر موجود عسکریت پسند تنظیموں، ان کے کیمپوں اور ان کے تنظیمی ڈھانچوں کو لازمی طورپر تباہ کرنا ہوگا۔
بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر پاکستان اس سلسلے میں اقدامات کرتا ہے تو وہ بھارت کو ردعمل کے اظہار میں پیچھے نہیں پائے گا۔
مذاکرات کی یہ پیش کش اس کے لگ بھگ ایک سال بعد سامنے آئی ہے جب نئی دہلی نے گذشتہ نومبر ممبئی میں ان دہشت گرد حملوں کے بعد، جن کا الزام وہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں پر عائد کرتا ہے، دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات فی الوقع روک دیے تھے۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ بھارت میں دہشت گرد حملوں کی وجہ سے امن مذاکرات کا پانچ سالہ سلسلہ بار بار متاثر ہوا ہے۔
امن مذاکرات سے دونوں حریفوں کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی تھی لیکن اس دوران بھارت پاکستان پر باربار یہ الزامات عائد کرتا رہاہے کہ وہ اپنے ملک میں فعال دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کافی اقدامات نہیں کررہا۔
سخت سیکیورٹی انتظامات کی موجودگی میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی راہنما نے کہا کہ کشمیر میں تشدد کا دور ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے کشمیر کے علیٰحدگی پسند لیڈروں سے کہا کہ وہ ان کی حکومت کےساتھ مذاکرات کریں۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ ان کی حکومت ریاست میں امن اور ترقی کی بحالی میں مدد کرنے والے تمام لوگوں اور تنظیموں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
علیٰحدگی پسند راہنماؤں نے اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے لیکن سخت موقف رکھنے والے کشمیری راہنما ممکن ہے کہ مذاکرات میں شرکت نہ کریں۔ یہ بات بدھ کے روز اس وقت واضح ہوئی جب سخت موقف کے حامل علیحدگی پسندوں نے بھارتی وزیر اعظم کے علاقے کے دو دورزہ دورے کے خلاف ایک عام ہڑتال کی اپیل کی۔

