سری لنکا نےفوجی کمانڈر سے ملک کی خانہ جنگی کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے ارتکاب کے بارے میں سوال اٹھانے کے امریکی منصوبوں پر احتجاج کیا ہے۔
وزیر خارجہ روہیتھا بولولاگاما نے پیر کےر وز کہا کہ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے نے جنرل ساراتھ فونسیکا سے سوال پوچھنے کے لیے کہا تھا جو اس وقت اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے امریکہ کے دورے ہیں ۔ اس کے بعد سری لنکا نے کولمبو میں امریکی سفیر کو اس پوچھ گچھ کے بارے میں احتجاج کے لیے طلب کیا۔
مسٹر بولاگاما نے کہاہے کہ امریکی عہدے دار، جنرل فونسیکا سے وزیر دفاع گوتا بایا راجہ پاکسے کے بارے میں معلومات کے لیے زور دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
سری لنکا کے وزیر خارجہ کا کہناہےکہ جنرل فونسیکا سری لنکا کی حکومت کے ساتھ اپنے کام کے حوالے سے کسی تیسرے فریق کے ساتھ حساس معلومات کا تبادلہ نہیں کرسکتے۔
جنرل فونسیکا نے ایک آزاد مملکت کے لیے تامل باغیوں کی 25 سالہ جنگ میں شکست کے قیادت کی تھی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال ختم ہونے والی جنگ کے آخری مہینوں میں سرکاری فوجوں اور تامل باغیوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔

