اس ہفتے افغانستان کی جنگ کے آغاز کی دسویں برسی ہے ۔ یہ جنگ گیارہ ستمبر 2011 کو امریکہ پر دہشت گردوں کے حملوں کی وجہ سے شروع کی گئی تھی ۔ صدر اوباما کو یہ جنگ جو امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے، ورثےمیں ملی تھی ۔
وائس آف امریکہ نے مختلف ماہرین و مبصرین سے بات کرکے پچھلے دس سالوں میں افغانستان کے حالات کا ایک جامع خاکہ کھینچنے کی کوشش کی ہے
نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندریس فوخ راس موسن نے کہا ہے کہ نیٹو افغانستان کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں 2014ء میں افغان اداروں کے سپرد کرنے کے اپنے منصوبے پر قائم ہے
’دس سال پہلے کی نسبت اب افغانستان میں خواتین خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں، کیونکہ طالبان کی حکومت کے گِرنے کے بعدافغان خواتین نے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں اورہر شعبے میں اپنے آپ کومنوایا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغان خواتین نے نہ صرف جنگوں بلکہ ملک کی تعمیرِ نو میں بھی حصہ لیا ہے‘
ربانی کے قتل نے نسلی اور علاقائی اختلافات کو اور گہرا کر دیا ہے اور مصالحت کا عمل انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
2001 سے اب تک افغانستان کی جنگ پر 400 ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ ہو چکی ہے ۔
شرکا نے ملک میں موجود امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ امن مذاکرات کی کوششوں کے ساتھ ہی طاقت کا استعمال ناگزیر ہے، جب کہ دوسرے تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ امن کا مقصد فوجی طاقت سے نہیں بلکہ امن مذاکرات کے لیے جاری کوششوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے
طالبان حکومت کےخاتمے کے 10 سال بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سےجاری کیے گئے بیان کے مطابق افغان عوام بد انتظامی، کرپشن، کمزور سکیورٹی اداروں اور شدت پسندوں کے حملوں کے باعث عدم تحفظ اور خوف کا شکار ہیں