اٹھارویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس یورپی ملک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں اتوار سے شروع ہو رہی ہے جو ایک ہفتے (July 18-23) تک جاری رہے گی۔ دنیا میں ایچ آئی وی اور ایڈز کی وبا کی روک تھام کے لیے عالمی ایڈز سوسائٹی ہر دو سال بعد ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرتی ہے جس میں دنیا بھر سے طبی ماہرین، سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کے ارکان، ایچ آئی وی اور ایڈز کے مریض اور اس کی روک تھام کے لیے کام کرنے والے ایک چھت کے نیچے جمع ہوتے ہیں ۔ اس سال کی کانفرنس میں 20 ہزار سے زیادہ افراد شریک ہو رہے ہیں۔
ایک ہفتے کی کانفرنس کے بعد مندوبین میں کانفرنس کے حوالے سے ملے جلے جذبات سامنے آئے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ جب عالمی معاشی بحران ہے اور وسائل کی کمی ہے تو لاکھوں ڈالر ایسی کانفرنس پر لگانے کا کیا مقصد ہے
اعلامیہ تیار کرنے والے سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کے مطابق منشیات کے عادی لوگوں کو مجرم سمجھنے کے بجائے مریض سمجھ کر ان کی مدد کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں اور ایڈز کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکتا ہے
طبی سائنس میں ترقی کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کو پیدائش کے چار ہفتے کے بعد ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے اور اگر ان میں ایچ آئی وی وائرس ہو تو ان کا فوری علاج شروع ہو سکتا ہے۔ ایسا پہلے ممکن نہیں تھا
پاکستان سے اس میٹنگ میں شرکت کے لیے سات افراد کا ایک وفد آیا تھا جس کی سربراہی پاکستانی سینٹ میں قائد ایوان سینیٹرنیّر حسین بخاری کر رہے تھے
بین الاقوامی ایڈز کانفرنس کی رپورٹ کے مطابق 19 ایشیائی ممالک میں مردوں کی ہم جنس پرستی ایک قانونی جرم ہے
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اس نئی پروڈکٹ کو زیادہ سے زیادہ دستیاب بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کرے گی کیونکہ کلینیکل ٹرائل کے بعد یہ پروڈکٹ محفوظ اور موثر نظر آتی ہے
ماہرین کے مطابق بہت سے امیر ممالک نے ایڈز میں مبتلا افراد کے لیے کافی امداد فراہم نہیں کی
کانفرنس کا مقصدایڈز کے کنٹرول سے متعلق اقدامات اور پیش رفت کا جائزہ لینا ہے: منتظمیں
ویانا میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے کہا کہ ایڈز کے خلا ف مہم سے بہت سی دیگر بیماریوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ40 لاکھ کے قریب ہے جن میں سے 40 فیصد اس امر سے ناواقف ہیں کہ وہ اس بیماری کا شکار ہیں