ڈیٹ لائن واشنگٹن اردو زبان میں وائس آف امریکہ کا دستاویزی سلسلہ ہے جس میں ان موضوعات پر بحث کی جاتی ہے جو پاکستان اور امریکہ، دونوں کو، بیک وقت متاثر کرتے ہیں ۔ اس سلسلے کے تحت ہم اہم دفاعی اور خارجہ امور کے امریکی اور پاکستانی ماہرین کے ساتھ ساتھ امریکہ میں رہنے والے عام پاکستانیوں کی رائے بھی آپ تک پہنچاتے ہیں تاکہ امریکہ اور پاکستان کو درپیش معاملات پردونوں ملکوں میں کی جانے والی سوچ بچار کو وائس آف امریکہ اردو کے ناظرین، سامعین اور قارئین تک پہنچایا جائے
صدراوباما کی انتظامیہ افغانستان اور پاکستان کے لئے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر چکی ہے۔اب جب امریکی انتظامیہ کچھ روز میں افغانستان میں اپنی فوجی حکمت عملی کا جائزہ لینے والی ہے یہاں واشنگٹن میں بہت سے ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ کی حکمت عملی کتنی کامیاب ہے اور کیا یہ ٹھیک سمت جارہی ہے۔
امریکی کانگریس اورسینیٹ کے وسط مدتی انتخابات کا مرحلہ امریکی سیاست کے کینوس پرکچھ عرصےسے نئے مخالفانہ رنگ بھر رہا ہے
وزیر اعلی عمر عبدالله نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور یہاں کی بگڑتی صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے جلد سیاسی ڈائلاگ شروع کیا جانا چاہیے
پاکستان نے ابھی تک ایٹمی عدم پھیلاو کے معاہدے، این پی ٹی، پر دستخط نہیں کیے اور ایرانی صدر احمدی نژاد نے نیویارک میں ایک بار پھر اپنے ملک کے ایٹمی عزائم کا اعادہ کیا تھا
تعلیم و ثقافت کے شعبے کی امریکی معاون وزیر خارجہ الینا روما نووسکی کہتی ہیں کہ فل برائٹ، مختلف شعبوں میں قائدین اور ماہرین پیدا کرنے کا پروگرام ہے
پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے افراد کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 35 فی صد ہے
گزشتہ 63 برسوں میں پاکستان میں سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسی پالیسیاں کارفرما رہی ہیں جن سے پاکستان کا تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے
پاکستان کی باسٹھ سالہ تاریخ کا ایک مختصر جائزہ
پاکستان میں دہشت گردی کے بارے میں چند بنیادی سوالوں کے جوابوں کی تلاش
پاکستان کی صورتحال پر امریکہ میں مقیم عام پاکستانیوں اور ماہرین کی آراء