،ہیلو امریکہ، وائس آف امریکہ اردو کا ہفتہ وار سلسلہ ہے جو پاکستانی اور امریکی عوام کو سوالات اور جوابات کے زریعےایک دوسرے کے بارے میں جاننے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔لگ بھگ ایک سال قبل شروع کیئے جانے والے اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں پاکستانیوں کے سوالات اور ان سوالات کے متعلقہ شعبوں سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کے جوابات شامل کیئے جاتے ہیں ۔عائشہ خالد اس سلسلے کی پروڈیوسر ہیں۔
امریکی چڑیا گھروں میں سیر کے لیئے آنے والوں کا برتاؤ جانوروں کے ساتھ مناسب ہوتا ہے اور یہ لوگ انتظامیہ کی جانب سے لاگو پابندیوں کا احترام کرتے ہیں
ساٹھ سے ستر فیصد امریکی باقاعدگی سے دانتوں کے معالج کے پاس جاتے ہیں اور دن میں دو بار برش کرنے اور ایک بار فلوس کرنے کے عادی ہیں
اِس طبی مسئلے کے بارے میں آگہی حاصل کرنے اور امریکہ میں دستیاب جدید ترین علاج کےبارے میں جاننے کےلیےتین مخلتف لوگوں سےرابطہ کیا گیا
کوئی بھی خبرجو تازہ ترین، دلچسپ اوراہم ہو‘ بریکنگ نیوز’ بن جاتی ہے
ان اداروں میں رہائش ریٹائرڈ اور بزرگ افراد کو مناسب دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ خود مختاری اور دوسروں پر بو جھ نہ ہونے کا احساس بھی فراہم کرتی ہے
راک اینڈ رول ، ہپ ہاپ، پنک غرض یہ کہ امریکہ میں موسیقی کی تقریباً ہرصنف ہی صوفی ازم کے فلسفے سےکسی نہ کسی طرح متاثر ہوئی ہے
پاسٹر ڈون کے مطابق امریکہ کے زیادہ تر عیسائی چرچز میں دوسروں کے حقوق کے احترام اور امن و محبت کے قیام کی تعلیم کا کام کم عمر بچوں سے ہی شروع کردیا جاتا ہے
The Blind Roosterنامی ریسٹورنٹ بصارت سے محروم افراد کے لیے ملازمت کے مواقع مہیا کر رہا ہے
امریکہ میں بصارت سے محروم افراد کو ہر طرح کے روزگار کے مواقع میسر ہیں اوراس کی وجہ ہے ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی جوبصارت سے محروم افراد کو اپنی پسند کے شعبے کے لیے درکار ضروری تعلیم کے حصول اور مختلف ہنر سیکھنے کے قابل بناتی ہے
ڈائین ریم اس وقت کے سینیٹر براک اوباما ، صدر بل کلنٹن ، ہلری کلنٹن جیسی اہم امریکی شخصیات سمیت پاکستان کی کئی شخصیات کے بھی انٹرویوز کرچکی ہیں
کسی فلم کی ریلیز کے ایک عرصے بعد تک یہ اندا زہ کرنا کہ یہ ایک شاہکار یا کلاسک فلم ہوگی یا نہیں مشکل ہوتا ہے
اگرچہ امریکہ میں فن اداکاری سیکھانے کے مخصوص اداروں میں تعلیم حاصل کی جاسکتی ہےلیکن تھیٹر بھی اداکاری سیکھنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے
امریکہ میں ذہنی امراض سے اب تک کچھ اسٹگما منسلک کیاجاتا ہے لیکن تیرہ چودہ سال پہلے کے مقابلے میں منفی رویوں میں کافی کمی آئی ہے
یو ایس ایڈ اس وقت ان طریقوں پر غور کر رہا ہے جن کے زریعے امریکی اساتذہ کو پاکستا نی اساتذہ کے ساتھ مل کرپاکستان کے طلبا کو ان کے اپنے ملک میں تعلیم دینے کا موقع ملے گا