سری لنکا نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ حکومت کے زیرِ انتظام پناہ گزین کیمپوں میں مقیم باقی ماندہ بےگھر لوگ دوبارہ آبادکاری مکمل ہونے سے دو ماہ پہلے ہی یکم دسمبر کو کیمپوں سے نکل سکتے ہیں۔

صدر مہندا راجاپاسکے کے بھائى اور مُشیر باسِل راجا پاسکے نے کہا ہے کہ کیمپوں میں نظر بند لوگ اگلے مہینے کی پہلی تاریخ سے اپنے دیہات کو واپس جانے کے لیے آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیمپوں کو 31 جنوری کو پوری طرح بند کردیا جائے گا۔

جمعے کے روز انسانی حقوق کے وزیر مہندا سمارا سنگھے نے صرف یہ کہا تھا بےگھر عام شہریوں کی اکثریت کی دوبارہ آباد کاری جنوری کے آخر تک عمل میں آجانی چاہئیے۔

سمارا سنگھے کے اس بیان سے ایک دن پہلے اقوامِ متحدہ کے فلاحی کاموں کے سربراہ نے سری لنکا کا ایک تین روزہ دورہ مکمل کیا تھا۔

جان ہومز نے ملک کے شمالی علاقے میں گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ان کیمپوں کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ایک لاکھ 30 ہزار تامل ابھی تک سخت پہرے میں قائم کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق کے وزیر کا کہنا ہے کہ اُجڑے ہوئے تقریباً نصف عام شہریوں کو کیمپوں سے رہا کیا جاچکا ہے اور پچھلے ہفتے پانچ ہزار 200 سے زیاہ لوگوں کو دوبارہ آباد کیا گیا ہے۔