آج کل نوبیل انعامات کا بڑا چرچا ہے، خاص طور صدر اوباما کو ملنے والے امن کے نوبیل انعام پر دنیا بھر میں خوب بحث و تمحیص کی گئی ہے۔ لیکن جب سوئیڈن میں یہ نوبیل انعامات دیے جا رہے تھے، اسی دوران نیویارک میں نوبیل انعامات کے متوازی ’اگنوبیل انعامات‘ (Ig Nobel Prizes) دیے گئے۔اگرچہ ان انعامات کا نوبیل انعامات کی طرح دنیا بھر کے میڈیا میں ڈھنڈورا نہیں پیٹا گیا، لیکن کم از کم یہ انعامات اپنے بڑے بھائی کی طرح متنازع ثابت نہیں ہوئے۔

نوبیل انعامات کی تقریب تو سوئیڈن میں ہوتی ہے، لیکن اگنوبیل انعامامات کے اعزاز سے نوازنے کے لیے ایک امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں ایک خصوصی تقریب بپا کی جاتی ہے اور ان کا اعلان کم و بیش نوبیل انعامات کے اعلان کے دنوں ہی میں کیا جاتا ہے، یعنی اکتوبر کے مہینے میں۔

نوبیل اور اگنوبیل انعامات میں فرق یہ ہے کہ اگنوبیل انعامات میں تحقیق کے انتخاب کا معیار یہ ہے کہ پہلے تو لوگ انعام کا سن کر خوب ہنسیں اور پھر غورو فکر کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ اگنوبیل انعامات کے مستحق علما و فضلا اپنے متعلقہ شعبوں میں جتنے دور کی کوڑی لے کرآتے ہیں، اسے دیکھ کر انشا اللہ خان انشا کا مصرعہ ذہن میں آتاہے، اندھے کو اندھیرے میں بڑے دور کی سوجھی۔

مثال کے طور پر اس سال امن کا اگنوبیل انعام سوئٹزلینڈ کے اس سائنس دان کو دیا گیا جس نے اس بات پر دادِ تحقیق دی تھی کہ کسی کو بے ہوش کرنے کے لیے اس کے سر پر بیئر کی خالی بوتل مارنا زیادہ کارگر رہے گا یا بھری ہوئی بوتل! تحقیق سے معلوم ہوا کہ خالی بوتل زیادہ موثر ہتھیار کا کام کرتی ہے۔

اسی طرح طب کا نوبیل انعام کیلی فورنیا کے اس ڈاکٹر کو ملا جس نے 60 سال تک اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں چٹخا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی آیا انگلیاں چٹخانے سے جوڑوں کی بیماری آرتھرائٹس لاحق ہوتی ہے یا نہیں۔ اس مضمون کے آخر میں بتایا جائے گا کہ اس تحقیق کے نتائج کیا برآمد ہوئے۔

ریاضی کا انعام زمبابوے کے ریزو بنک کو ملا۔ کمیٹی نے انعام کی توجیہ یہ بیان کی کہ بنک نے لوگوں کوچھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے ہندسوں سے نبرد آزما ہونے کا آسان طریقہ فراہم کر دیا ہے۔ اور وہ یوں کہ بنک نے ایک سینٹ سے لے کر ایک ہزار کھرب ڈالر کے نوٹ چھاپے ہیں، جس کی مدد سے اب لوگ ان بڑی رقموں کا حساب لگا سکتے ہیں، جو کسی اور صورت میں ممکن نہیں تھا۔

One Cent and a Hundred Trillion Dollar bills of Zimbabweایک سینٹ سے لے کر ایک ہزار کھرب ڈالر کے نوٹ چھاپنے پر زمبابوے کے سرکاری بنک کو اگنوبیل انعام سے نوازا گیا

 

ادب کا اگنوبیل انعام بھی بہت دل چسپ ہے۔ لیکن یہ انعام عام رواج کے مطابق کسی ادیب کو نہیں، بلکہ یہ آئرلینڈ کے محکمہٴ پولیس کو مشرکہ طور پر دیا گیا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پولیس اور ادب کا کیا تعلق ہے، تو جان لیجیے کہ انھیں یہ انعام کوئی سنسنی خیز ناول یا شاہ کار نظم لکھنے پرنہیں، بلکہ’ پراوو جازی‘ نامی شخص کا پچاس بار چالان درج کرنے پر دیا گیا ہے۔ چالان لکھنے پر ادبی انعام؟ کمیٹی نے اس کی تشریح یوں کی کہ پولش زبان میں پراوو جازی کا مطلب ’ڈرائیونگ لائسنس‘ ہوتا ہے! ظاہر ہے کہ اس قدر بامعنی اور ادبی انسلاکات سے بھرپورچالان لکھنے پر انعام تو ملنا ہی تھا۔

اسی طرح صحتِ عامہ کا انعام ڈاکٹر الینا بوڈنار کو ایک نادر ایجاد پر ملا۔ انھوں نے ایک ایسی برا ایجاد کی ہے جسے ہنگامی حالات میں گیس ماسک کی طرح استعمال کیا جا سکتاہے۔ یہ برا+گیس ماسک 99.9 فی صد موذی گیسوں کو فلٹر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم ہمیں اس کی افادیت صرف خواتین تک محدود نظر آتی ہے اورلگتا ہے کہ صنفِ کرخت اس مفید ایجاد کے ثمرات سے محروم رہے گی۔

 مزے کی بات ہے کہ ان انعامات کو مکمل سنجیدگی سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ سائنس دان اس وقت سب سے زیادہ مزاحیہ لگتے ہیں جب وہ سنجیدہ نظر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناں چہ فزکس کا اگنوبیل انعام یونیورسٹی آف ٹیکسس کی الزبتھ شپیرونے کمال متانت سے وصول کیا۔ الزبتھ یہ دور کی کوڑی لائی تھیں کہ آخرحاملہ خواتین بچے کے بوجھ تلے آگے کی طرف لڑھکتی کیوں نہیں ہیں۔ ان کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حاملہ خواتین لڑھکنے سے بچنے کے لیے چلتے وقت تھوڑا سا پیچھے کی طرف جھک جاتی ہیں۔

نوبل انعام کے برعکس اگنوبیل انعامات کی خامی یہ ہے یہ کہ بے چارے سائنس دان چاہے کتنی عرق ریزی سے تحقیق کیوں نہ کریں، انھیں انعام کے ساتھ کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ یہی نہیں بلکہ تقریب میں شرکت کرنے کے لیے بھی اپنے خرچ پر آنا پڑتا ہے۔ اوراس پر مستزاد یہ کہ اگر کوئی تحقیق دان انعام وصول کرنے کے بعد جذبات کی رو میں بہہ کرسٹیج پر ایک منٹ سے زیادہ بولنے کی کوشش کرے تو غریب کو سختی سے جھاڑ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

اگر آپ بھی اتفاق سےکسی ایسے ہی نادر موضوع پر تحقیق کر رہے ہیں تو پہلی فرصت میں اگنوبیل کمیٹی کو آگاہ کرنا نہ بھولیے۔ نوبیل انعام نہ سہی، کیا پتا اگلے سال کا اگنوبیل انعام آپ ہی جیت کر اپنا اور ملک کا نام روشن کریں۔

اور ہاں وہ انگلیاں چٹخانے والی تحقیق۔ کیلی فورنیا کے ڈاکٹر ڈونلڈ انگر اس 60 سالہ تحقیق کے دوران روزانہ اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں چٹخاتے رہے لیکن انھوں نے دوسرے ہاتھ کو اس مشق سے محفوظ رکھا۔ ساٹھ سال بعد جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ دونوں ہاتھوں کی جسمانی صحت میں ذرا برابر فرق نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ انگلیاں چٹخانے سے آپ کے قریب بیٹھنے والے کتنا ہی الجھتے ہوں، کم از کم اس عمل کے باعث آپ کو آرتھرائٹس کا مرض لاحق نہیں ہو گا۔