پاکستان  میں نجی شعبے کے بڑے نیوز چینلوں کے سینئر عہدے داروں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ خبریں دیتے ہوئے لاشیں، زخمی، یا ایسے خونی مناظر نہیں دکھائیں گے جِن سے عوام ذہین دباؤ اور اذیت محسوس کریں۔

یہ فیصلہ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے جاری باہمی مشاورت کا نتیجہ ہے جِس کو کراچی کے اجلاس میں حتمی شکل دی گئی۔

‘آج’ ٹیلی ویژن کے سینئر عہدے دار اور میزبان طلعت حسین نے کہا ہے کہ یہ پیشہ ور صحافیوں کی طرف سے اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر معیار بہتر بنانے کی کوشش ہے۔  تاہم اِس کی پابندی رضاکارانہ ہے۔

اُنھوں نے  اپنے چینل کی طرف سے اس ضابطہٴ اخلاق پر عمل درآمد کی  یقین دہانی کرائی۔  تاہم اُن کا کہنا تھا کہ  اگر کسی دوسرے چینل  کا نمائندہ ایسا کرنے کو تیار نہ ہو  تو اُس پر کوئی سزا نہیں ہے۔

مالکانِ چینل اور حکومت کی طرف سے ضابطہٴ  اخلاق نافذ کرنے کی کوششوں کو رد کرتے ہوئے  طلعت حسین نے کہا اگر ہم نے خود اپنے لیے کوئی لائحہٴ عمل اجتماعی طور پر نہیں بنایا تو پھر نہ جانے اِس ضرورت کو کون لے اُڑے، مالکان اُن میں سے ایک ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے کسی ضابطہٴ اخلاق کے پابند نہیں،  اور مالکان کیوں کہ فعال صحافی نہیں ہیں بلکہ صحافی ہیں ہی نہیں ،  اِس لیے اُن کی طرف سے تجاویز بھی ہمیں قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔  ‘اِس بات کو ذہن میں رکھ کر ہم نے یہ اجلاس کیا تھا جِس کا نتیجہ سامنے ہے۔’

پاکستان ٹیلی ویژن چینلوں پر جِس طرح واقعات کی رپورٹنگ ہوتی ہے اُس پر بعض حلقوں کی  طرف سے کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اب  دیکھنا یہ ہے کہ پیشے کے سینئروں کی طرف سے یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔