جمعرات کو نیو یارک کی ایک ضلعی عدالت میں ڈاکٹر صدیقی کے وکلاء نے دلیل پیش کی کہ چونکہ مبینہ جرم افغانستان میں ہوا ہے اس لیے ان کی موکل پر لگائے جانے والے الزامات امریکہ عدالت کے دائرہ کار سے باہر ہیں اور ان پر امریکہ میں مقدمہ چلانا عالمی قوانین کے منافی ہے۔
جج رچرڈ برمن نے امریکی کانگریس کے بنائے ہوئے ایک قانون اور ماضی کے کیسوں کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ چونکہ حملہ امریکی فوجیوں پر ہوا ہے اس لیے امریکی عدالت یہ مقدمہ سن سکتی ہے۔
ڈاکٹر صدیقی کے وکلاء نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی موکل عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتیں اس لیے انہیں آئندہ کمرہ عدالت میں نہ لایا جائے بلکہ ویڈیو کے ذریعے انہیں عدالتی کاروائی کا حصہ بنایا جائے۔
جج برمن کا کہنا تھا کہ عدالت اس سلسلے میں پوری کوشش کر رہی ہے اور جونہی ویڈیو کانفرنس کی سہولت مہیا ہو سکے گی، انہیں فراہم کر دی جائے گی۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر صدیقی اس دوران بار بار یہی دہراتی رہیں کہ وہ اس تمام کاروائی کا بائیکاٹ کرتی ہیں اور وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی اس میں شریک ہونا نہیں چاہتیں۔ گزشتہ سماعتوں میں ڈاکٹر صدیقی یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ کسی کو اپنا وکیل صفائی نہیں مانتیں اور انہیں اس عدالت پر کوئی بھروسہ نہیں۔
اس سے پہلے عدالت ان کی یہ درخواست بھی رد کر چکی ہے کہ وہ اپنا دفاع خود کریں گی اور براہ راست حکومت کے وکلاء اور ایف بی آئی سے بات کریں گی۔ انھیں نہ صرف امریکی حکومت کی طرف سے وکیل صفائی مہیا کیا گیا ہے بلکہ حکومت پاکستان نے بھی ان کے دفاع کے لیے تین وکیلوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔
استغاثہ اور صفائی کے وکیل اب افغانستان جا کر عینی شاہدوں کے بیانات ریکارڈ کریں گے۔
ڈاکٹر صدیقی پر الزام ہے کہ انھوں نے افغانستان میں حراست کے بعد امریکی تفتیشی ٹیم کے ایک رکن کی ایم-فور رائفل سے فائرنگ کرکے ٹیم کے ارکان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔
ان کے خاندان والوں کا الزام ہے کہ امریکی اور پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے پانچ سال پہلے ڈاکٹر صدیقی کو ان کے تین بچوں سمیت کراچی سے اغوا کیا اور افغانستان میں خفیہ طور پر نہ صرف قید رکھا بلکہ ان پر تشدد بھی کیا۔ جج برمن کا کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کا جلد از جلد باضابطہ آغاز چاہتے ہیں۔

