امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر لی اون پے ناٹا نے جمعہ کواسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی جس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت میں دونوں ملکوں کی افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان تعاون مزید بہتر کرنے کے علاوہ افغانستان کے لیے امریکی حکمت عملی کا ازسر نوجائزہ بھی زیر بحث آیا۔
وزیر اعظم گیلانی نے بات چیت میں ایک بار پھرامریکہ پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے لیے اپنی نئی حکمت عملی کے خدو خال کے بارے میں پاکستان کو مکمل طو رپر آگاہ رکھے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کے ملک کی طرف سے دی گئی تجاویز نئی امریکی پالیسی میں شامل کی جائیں۔
مزید برآں اُن کا کہنا تھا کہ نئی امریکی حکمت عملی ترتیب دیتے وقت پاکستان کی اس تشویش کو ہر صورت مد نظر رکھا جائے کہ ’’افغانستان میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی فوجوں میں ممکنہ اضافے سے صوبہ بلوچستان کے حالات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں‘‘۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم گیلانی نے امریکہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر سے بات چیت میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے درمیان قریبی تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ دو طرفہ تعلقات میں پائی جانے والی بدگمانیوں کو موثر کوششوں کے ذریعے دور کیا جا سکے۔
بیان کے مطابق سی آئی اے کے ڈائریکٹر پے ناٹا نے پاکستانی وزیر اعظم کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں استحکام لانے کی کوششوں میں پاکستان کے کلیدی کردار سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اُنھوں نے پاکستانی رہنما کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ دونوں ملکوں کی افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے درمیان موثر تعاون دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سی آئی اے کے سربراہ نے ایک ایسے روز پاکستان کا دورہ کیا جب شمالی وزیرستان میں بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیارے سے کیے گئے مبینہ میزائل حملے میں آٹھ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ باور کیا جاتا ہے کہ ڈرون کے نام سے مشہور یہ امریکی طیارے سی آئی اے کے زیرکنٹرول ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پاکستانی رہنماوں نے اس ٹیکنالوجی کی پاکستان کو منتقلی کا بار بارمطالبہ بھی کیا ہے تاکہ وہ ان طیاروں کو استعمال کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر خود ہی دہشت گردوں کو نشانہ بنا سکیں۔

