امریکہ اور روس نے ایک ایسے سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں جس میں دونوں ملکوں نے اپنے جوہری ہتھیاروں اور ان ہتھیاروں کو ہدف تک پہنچانے والے میزائلوں کی تعداد میں بھاری کمی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

سمجھوتے پر امریکی صدر براک اوباما اور اُن کے روسی ہم منصب دِمِتری میدویدیف نے ماسکو میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں دست خط کیے ہیں۔ سمجھوتے میں دونوں فریقوں کی مذاکراتی ٹیموں کو ہدایت کی گئى ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے سمجھوتے یا ’سٹارٹ‘ کی جگہ ایک نئے سمجھوتے کو حتمی شکل دیں۔ پرانے سمجھوتے کی معیاد دسمبر میں ختم ہورہی ہے۔

نئے سمجھوتے کے تحت ایٹم بموں کی تعداد کو 2200 سے کم کرکے 1500سے لے کر 1675 تک کردینے کی گنجائش رکھی گئى ہے، جب کہ بموں کو ہدف تک لے جانے والے میزائلوں کی تعداد کو 1600 سے کم کرکے 500 سے لےکر 1000  تک محدود کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے صدر اوباما نے کریملن میں روسی صدر کے ساتھ اپنے مذکرات شروع ہونے سے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنے سربراہی اجلاس میں مختلف مسائل پر  ”غیر معمولی پیش رفت“ کی امید ر کھتے ہیں۔

صدر میدویدیف نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر ایک ایسے مکمل جائزے کی پیش گوئى کی، جس میں ماضی کے کچھ باب بند کیے جائیں گے اور مسقبل کے کچھ نئے باب کھولے جائیں گے۔