یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف کامرس کے مطابق امریکی معیشت میں ترقی کے آثار واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ایک سال کے عرصے میں کئی شعبوں میں بہتری دیکھنے میں آئی  ہے۔  مگر دوسری جانب کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ  معیشت میں بہتری کے باوجود  فی الحال  ان لوگوں کو فائدہ نہیں ہوگا جو بے روزگار ہیں،  یا جو اپنے گھروں کو  نیلام ہونے سے بچانا چاہتے ہیں۔ 
12 ماہ کی کساد بازاری کے بعد حکومت کے کیش فار کلنکرز پروگرام اور مکانوں کی فروخت میں اضافے کی وجہ سے  امریکی معیشت میں بہتری کے کچھ آثار نظر آ رہے ہیں۔  مجموعی قومی پیداوار میں 3.5 فی صد اضافہ ماہرین کی توقعات سے زیادہ تھا،  لیکن امریکی کامرس ڈپارٹمنٹ کے انیلسس یونٹ کے سربراہ جے سٹیون لینڈفیلڈ کہتے ہیں کہ یہ اعداد صورت حال کی پوری طرح عکاسی نہیں کرتے۔ 
ان کا کہنا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں مزید تفصیلی معلومات موصول ہونے پر صورت حال اور واضح ہو گی۔  ان  ابتدائی اعداد و شمار کا مقصد امریکی عوام اور پرائیویٹ اداروں کو  امریکی معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانات  کے بارے میں  قابل اعتماد معلومات مہیا کرنا ہے۔ 
وال سٹریٹ کی  تیسرے عشرے کی رپورٹ بہت سے لوگوں کے لیے امریکی معیشت کی بحالی کا ایک اور ثبوت تھی۔ 
لیکن مین سٹریٹ پر رہنے والے افراد ابھی جشن نہیں منا رہے۔  اے بی سی نیوز اور واشنگٹن پوسٹ کے ایک سروے کے مطابق 82 فی صد امریکی ابھی بھی امریکہ کو اقتصادی بحران کی گرفت میں  ہی سمجھتے ہیں۔  اے بی سی نیوز کے پولنگ ڈائریکٹر گیری لینگرکہتے ہیں کہ امریکی اب بھی اقتصادی صورت حال سے بہت پریشان ہیں۔  گو اقتصادی ماہرین کو بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں،  لیکن بیشتر امریکیوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں نظر آرہی۔ ممکن ہے کہ ایسی تبدیلی انہیں کچھ عرصے بعد ہی نظر آئے۔ 
صدر اوباما نے ان حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ گو  امریکی معیشت میں  اتنی ترقی دو سال کے بعد واقع ہوئی،  لیکن فی الحال  بحالی کے عمل کا محض آغاز ہی ہوا ہے۔ 
یہ رپورٹ  حقیقی معنوں میں ترقی کے آثار ظاہر کرتی ہے،  لیکن  میں امریکی معیشت کی پختگی کا اندازہ  لگانے کے لیے صرف قومی پیداوار میں اضافے کو ہی نہیں،  بلکہ نوکریوں میں اضافے،  خاندانوں کے اقتصادی حالات میں بہتری،  اور تجارت کی صورت حال کو بھی مد نظر رکھتا ہوں۔ 
بہت سے تجزیہ کاروں کو  یہ فکر ہے کہ اس سال  حکومت کے اخراجات  اور ٹیکس کٹ کے  787 ارب کے منصوبے کے  اختتام  پر  اگلے سال  قومی پیداوار  میں ایک بار پھر کمی آ سکتی ہے۔ 
ویلز فارگو  کے ماہر اقتصادیات جان سلویا کہتے ہیں کہ امریکی معیشت کا  75 فی صد صارفین کے اخراجات کے رجحان  پر منحصر ہے۔  وہ کہتے ہیں کہ  صارفین اس وقت خرچ کریں گے جب نوکریاں پیدا ہوں گی،  اور میرے خیال میں یہ تبدیلیاں  اگلے سال کے دوسرے یا تیسرے عشرے تک ہی واقع ہوں گی۔ میرا خیال ہے کہ اس کے بعد ہی   نوکریاں پیدا ہوں گی،  اور لوگ صحیح معنوں میں سرمایہ خرچ کرنا شروع کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق  معیشت کی بحالی کی نشانیوں میں نوکریوں میں اضافہ میں سب سے دیر میں ظاہر ہوتا ہے،  اورمعیشت میں بہتری کا سب سے ٹھوس ثبوت بھی شاید یہی ہے۔  گو بے روزگاری کی  امداد کے لیے  درخواست دینے والوں کی تعداد میں کمی آئی ہے،  لیکن ماہرین اقتصادیات کی پیش  گوئی کے مطابق  6 نومبر کو سرکاری جائز رپورٹ شائع ہونے تک بے روزگاری کی شرح 9.9 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔