شمالی مشرقی امریکی ریاست ڈیلاویر کے ایک فوجی  ہوائی اڈے پر بدھ کی رات جب افغانستان میں اس ہفتے کے دوران  ہلاک ہونے والے 18 امریکیوں کے تابوت لے ایک طیارہ پہنچا توصدر اوباما انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ 

صدر اوباما ائیر فورس کے مرکز ڈوو پر نصف شب سے کچھ بعد پہنچے  اور وہاں ساڑھے تین تک گھنٹے ٹہرنے کے بعد جمعرات کو طلوع آفتاب سے قبل وہ وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔ 

صدر اوباما نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے والوں کے اہل خانہ سے ایئر بیس کے گرجا میں  ملاقات کی۔

جنوبی افغانستان میں سلسلے وار بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے آٹھ فوجیوں اور ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے  میں مرنے والے سات فوجیوں اور انسدادِ منشیات کے تین اہل کاروں کے تابوت،  امریکی ایئر فورس کے ایک مال بردار طیارے کے ذریعے لائے گئے تھے۔ 

اکتوبر میں اب تک افغانستان میں کم ازکم 55 امریکی اہل کارہلاک ہوچکے ہیں،  جس سے 2001ء کے بعد سے  امریکی فوج کے لیے یہ  سب سے زیادہ ہلاکت خیز مہینہ بن چکا ہے۔

ڈوور کے ایئر بیس پر امریکہ میں فوجیوں کا سب سے بڑا مردہ خانہ  موجودہے۔  بیرون ملک ہلاک ہونے  امریکی فوجیوں کے تابوت  سب سے پہلے وہیں لائے جاتے ہیں۔

صدر اوباما افغانستان کے لیے اس نئی حکمت عملی کا جائزہ لے رہے ہیں جس کا اعلان مارچ میں ہوا تھا اور جس کے تحت وہاں پر 21 ہزار لڑاکا فوجیوں اور انسٹرکٹرز کی تعیناتی بھی شامل ہے۔  مزید فوجیوں کی تعیناتی سے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 68 ہزار تک پہنچ جائے گی۔  

بعض رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلی میک کرسٹل نے،  طالبان اور القاعدہ کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے 40 ہزار مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔