بھارتی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے ایک مبینہ منصوبے کی تحقیقات میں امریکی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تعاون کررہی ہے جس میں شکاگو کے دو رہائشی ملوث ہیں۔تاہم اس نے ایک معروف بھارتی سیاسی شخصیت راہل گاندھی کے مشتبہ افراد کا ہدف ہونے سے انکار کیا ہے۔
بھارتی حکومت کے تفتیش کار شکاگو میں زیرِ حراست ان دو افراد کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کررہے ہیں جو مبینہ طورپر بھارت میں دہشت گر د حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔
اس واقعے نے بھارت کی سیکیورٹی انتظامیہ کو خدشات میں مبتلا کردیا ہے۔ بھارتی سرکاری عہدے داروں نے کہا ہے کہ انٹیلی کے دو اداروں ’را‘ اور انٹیلی جنس بیورو کے سینیئر عہدےدار ان میں سے کم ازکم ایک مشتبہ شخص ڈیوڈ کول مین ہیڈلی سے تفتیش کے لیے امریکہ جائیں گے۔ یہ شخص داؤدگیلانی کے نام سے بھی معروف ہے۔ امریکی تفتیش کاروں اور عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ یہ پتا چلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ حملے کا ہدف کیا تھا اور اسے کب انجام دیا جانا تھا۔
بھارتی حکومت نے جمعے کے روز تسلیم کیا کہ ہیڈلی بظاہر کئی بار بھارت کا سفر کر چکا ہے۔ اسے تین اکتوبر کو شکاگو کے ہوائی اڈے پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ پاکستان جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس ماہ اسی کیس میں گرفتار ہونے والا دوسرا شخص ظہور حسین رانا ہے جو کینیڈا کا پاکستانی نژاد شہری ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ دونوں افراد نے پاکستان کے ایک ہی فوجی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔
ایف آئی اے کی ایک دستاویز میں بھارت میں حملے کے منصوبے کے مبینہ ہدف کا نام راہل بتایا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد کئی قیاس آرائیاں سامنے آئی ہیں اور یہ خبریں شائع ہوئی ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ ہدف کانگریس پارٹی کے سیاست دان راہل گاندھی ہوں جن کے والد راجیو گاندھی اور دادی اندرا گاندھی وزیر اعظم تھے اور دونوں ہی قتل ہوئے تھے۔
بھارتی وزیر داخلہ چدم پرم نے اس قیاس آرائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی فرضی نام ہوسکتا ہے یا کوئی کوڈ ہوسکتا ہے لیکن انہوں نے یقین دلایا کہ یہ وہ راہل نہیں ہے جس کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔
یہ افراد بھارت کے علاوہ وہ مبینہ طور پر ڈنمارک میں بھی حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے جہاں 2005ء میں ایک اخبار نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیے تھے، جس سے اکثر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے تھے۔
ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ہیڈلی پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کے ارکان سے مسلسل رابطے میں تھا۔ اس تنظیم پر پچھلے سال نومبر میں ممبئی پر حملوں کا الزام ہے جس میں 160 سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔
امریکی محکمہٴ خارجہ نے امریکی باشندوں کو بھارت کے سفر میں احتیاط کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت اس بارے میں مسلسل معلومات حاصل کر رہی ہے کہ آیا دہشت گرد تنظیمیں یہاں حملوں کی منصوبہ بندی تو نہیں کررہیں۔

