اُن 13 افراد میں سے  کئى کی آخری رسوم ہفتے کے روز ادا کی گئیں، جو پچھلے ہفتے  امریکہ کی ایک فوجی چھاؤنی میں گولیاں چلنے کے ایک واقعے میں ہلاک ہوئے تھے۔
پانچ نومبر کو فورٹ ہُڈ ، ٹیکسس میں فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے عبادت کے خصوصی اجتماع امریکہ کے طول و عرض میں اُن افراد کے آبائى شہروں میں منعقد ہوئے۔ہلاک ہونے والوں میں سٹاف سارجنٹ ایمی کروگربھی شامل تھی۔اُس کے لیے دعائیہ اجتماع  ریاست وِسکون سن کے ایک چھوٹے سے شہر کِیل میں منعقد ہوا۔
اسی دوران صدر براک اوبامانے اُن تمام واقعات کی مکمل چھان بین کرنے کا مطالبہ کیاہے ، جو فائرنگ سے پہلے ہوئے تھے ۔
 ریڈیو اور انٹر نیٹ پر اپنی ہفتہ وار تقریر میں، جسے ہفتے کے دن وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردیا گیا ہے ، مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ تفتیش کاروں کو اُس مسلح شخص کے بارے  میں پہلے حاصل ہونے والی تمام اطلاعات کی مکمل تفصلیلات جمع کرنی چاہئیں اور یہ جاننا چاہئیے کہ اُن اطلاعات کی بنیاد پر کیا اقدامات کیے گئے۔
مبیّنہ حملہ آور میجر نضال مالک حسن کے وکیل نے جمعے کے  روز کہا تھا کہ اُس  کے موکل کا جسم کمر سے نیچے ٹانگوں تک مفلوج ہوگیا ہے ۔ حملے کے دوران سوِلین پولیس نے اُس پر کئى گولیاں فائر کی تھیں۔

امریکی فوج کے عہدے داروں نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ پچھلے ہفتے فورٹ ہُڈ میں مبینہ طور پر اندھا دُھند فائرنگ کرنے والے مسلح شخص ، میجر نضال  مالک حسن پر 13  افراد کو سوچ سمجھ کر قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔اور اُسے سزائےموت دی جاسکتی ہے۔
حسن پر فوجی چھاؤنی  فورٹ ہُڈ میں  اُن غیر مسلح فوجیوں پر گولیاں چلانے کا الزام ہے ، جو عراق اور افغانستان میں  اپنی تعیناتی کی تیاری کررہے تھے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون فوجی اور دماغی صحت  سے متعلق کئى طبّی کارکن شامل ہیں۔فائرنگ میں 43 لوگ زخمی ہوئے تھے۔
حکام اس حملے کے محرّکات کی چھان بین کررہے ہیں اور اسی دوران اس بارے میں تشویش کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ امریکی حکام خطرے کے  کچھ ایسے اشاروں کو نہیں بھانپ سکے،جن سے اُس قتل و غارت گری کو روکا جاسکتا تھا ۔