اس بار امریکہ میں عید الضحیٰ  اوریوم تشکر ایک ساتھ آرہے ہیں۔ یوم تشکر، کرسمس کے بعد امریکہ کا سب سے اہم تہوار ہے۔  اس موقع پر پورے امریکہ میں تعطیل  ہوتی ہے۔  اور اکثر امریکی یہ تہوار اپنے اہل خانہ،  رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ گذارتے ہیں۔  اس تہوار میں ٹرکی کو وہی حیثیت حاصل ہے جو ہمارے ہاں عیدالفطر میں سویوں کو ہوتی ہے۔

شیف رچرڈ ہٹزلرمقامی امریکی کھانے بنانے کے ماہر ہیں۔  وہ واشنگٹن ڈی سی کے میوزیم آف دی امریکن انڈین  میں وہ اس ٹیم کا حصہ ہیں جو کیفے ٹیریا کا مینو بناتی ہے۔  اس ٹیم نے اپنے مینو میں کھانے شامل کرنے کے لیے کئی ماہ قدیم امریکی کھانوں پر تحقیق کی ہے۔

ان کے مینو میں امریکہ سمیت پانچ خطوں کے کھانے شامل ہیں۔

ہٹزلر کہتے ہیں کہ اس دن کی اصل بات شکریہ ادا کرنے کا انداز ہے۔  یہ لوگوں کے لیے سال کے آخر میں فصلوں کی کٹائی کا وقت ہوتا تھا۔  اس کے بعد وہ پورا سال سردی ہو جانے کے باعث اتنا اچھا کھانا نہیں کھا پاتے تھے۔ 

یوم تشکر کے موقعے پر پورا گھر روایتی ٹرکی  کھانے کے لیے جمع ہوتا ہے۔  اس روایت کی جڑیں سترہویں صدی میں ملتی ہیں جب فصلوں کی کٹائی کے موقع پر یورپی آباد کار اور مقامی امریکی اکٹھے مل کر کھانا کھاتے تھے۔ 

گو کہ یوم تشکر کا تہوار مقامی امریکی تہوار نہیں ہے۔  شیف ہٹزلر کے مطابق مقامی امریکیوں نے امریکہ آ کر بسنے والے یورپیوں کو کھانے جمع اور محفوظ کرنے کا طریقہ سکھایا۔  بہت سے تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یورپ سے آکر امریکہ بسنے والے باشندے شروع کے برسوں میں مقامی امریکیوں کی مدد کے بغیر شاید کچھ نہ کر سکتے۔

ہٹزلر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں تو اس تہوار کی بنیاد مقامی امریکیوں نے ہی ڈالی۔  انہوں نے ان کھانوں کو استعمال کیا جو اس وقت انہیں میسر تھے۔  ہٹزلر کا کہنا ہے کہ مقامی امریکیوں کے دسترخوان پر تب بھی آج کی طرح کے بہت سے کھانے سجائے جاتے تھے۔ 

امریکن انڈین میوزیم میں شیف ہٹزلر نے پرانے مقامی امریکیوں کے کھانوں کو آج کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ شیف ہٹزلرکا کہنا ہے کہ سب سے اہم چیز مقامی امریکیوں کی جانب سے سبزیوں اور گوشت کو محفوظ کرنے کا طریقہ تھا تاکہ وہ سردیوں کے پورے موسم میں استعمال ہو سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سبزیوں کو کاٹ کر دھوپ میں سکھاتے تھے۔  پھر انکا استعمال سوپس اور دیگر چیزوں میں کیا جاتا تھا۔  وہ کھانے کو اچھی طرح محفوظ کرنے کا طریقہ جانتے تھے اور اس کے لیے نمک بھی استعمال کرتے تھے۔  بلکہ اس مقصد کے لیے نمک کا استعمال انہوں نے ہی شروع کیا تھا۔

مگر اس زمانے میں مقامی امریکیوں اور دوسرے ممالک بالخصوص یورپ سے آئے گئے افراد کے درمیان زیادہ نبھی نہیں۔  اور زمین کے تنازعات کے باعث ان دونوں کا آپس میں ربط ختم ہوگیا اور تھینکس گیونگ ایک ایسا تہوار بنا جس پر وہ مل بیٹھتے تھے۔