امریکہ کی سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی یا سی آئى اے عنقریب ایک رپورٹ جاری کررہی ہے، جس میں ایجنسی کے خفیہ جیل کیمپوں میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک  کی نئى تفصیلات کا انکشاف کیا جائے گا۔

سی آئى اے کے انسپیکٹر جنرل  پیر کے روز یہ رپورٹ جاری کررہے ہیں۔  بتایا گیا ہے کہ اس رپورٹ میں واٹر بورڈنگ اور نقلی سزائےموت سمیت، قیدیوں سے پوچھ گچھ کے انداز اور طریقوں پر کڑی نکتہ چینی کی گئى ہے۔

یہ رپورٹ  اگرچہ 2004 میں مکمل ہوگئى تھی، لیکن اسے ابھی تک خفیہ رکھا جارہا  تھا۔ اور شہری آزادیوں کی امریکی یونین یا  اے سی ایل یو کی جانب سے  قانونی چارہ جوئى کے بعد ہی اسے اب جاری کیا جارہا ہے۔اس رپورٹ میں ایک ایسے واقعے کا ذکر کیا گیا ہے جس  میں سی آئى اے کے افسروں نے ایک نظر بند کو یہ باور کرانے کے لیےبندوق سے فائر کیا کہ برابر کے کمرے  میں ایک دوسرے قیدی کو گولی ماردی گئى ہے اور اب اگلی باری  اُس کی ہے۔

رپورٹ میں القاعدہ کے ایک کمانڈر عبد الرحیم النّاشری کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کی تفصیلات بھی  بتائى گئى ہیں۔  ناشری پر یمن میں 2000 میں امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس کول پر بم کے حملے میں ملوًث ہونے کا شبہ تھا۔  سی آئى اے کے تفتیش کاروں نے اُسے پستول اور بجلی کے ایک برمے سے ڈرایا دھمکایا تھا۔

کسی قیدی کے ساتھ ایسا سلوک، جس میں وہ یہ محسوس کرے کہ اُسے فوری طور پر   ہلاک  ہوجانے کا خطرہ درپیش ہے، امریکی قوانین کے تحت اذیّت رسانی  اور خلافِ قانون ہے۔

ناشری، سی آئى اے کے کم سے کم اُن تین قیدیوں میں سے ایک ہے جن پر پوچھ گچھ کے دوران  واٹر بورڈنگ کا طریقہ آزمایا گیا تھا۔واٹر بورڈنگ میں قیدی کو ایک تختے پر لِٹا کر باندھ دیا جاتا ہے اور پھر اُس کے چہرے پر پانی اس طرح بہایا جاتا ہے کہ وہ سانس نہیں لے سکتا اور سجمحھتا ہے وہ بس ڈوب جانے کے قریب ہے۔امریکہ کے محکمہ انصاف نے 2002 میں اگرچہ پوچھ گچھ کے اس حربے کی منظوری دے دی تھی، لیکن صدر براک اوباما اور اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نےاسے اذیّت رسانی قرار دیتے ہوئے  اس کی مذمت کی تھی اور اس کا استعمال ختم کردیا۔

اسی دوران، امریکہ کے محکمہ دفاع نے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو اُن تمام قیدیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کرنا شروع کردی ہیں، جو عراق اور افغانستان میں امریکہ کی تحویل میں ہیں۔  امریکہ کے فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اب اُن سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ کسی قیدی کے پکڑے جانے کے دو ہفتے کے اندر  اندر اس قسم کی اطلاعات فراہم کردیں۔یہ اقدام، عراق اور افغانستان میں اُن جیل کیمپوں سے متعلق پینٹے گان کی سابق پالیسی کے  برعکس ہے، جن کا انتظام امریکی فوج کی سپیشل آپریشنز کمان کے پاس ہے۔

اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے ساتھ ہی بیرونِ ملک امریکی حکومت  کے باقی ماندہ انتہائى خفیہ قید خانوں پر سے راز کا  پردہ اُٹھنا شروع ہوگیا ہے۔