امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ٹیکساس میں واقع ایک اہم فوجی چھاونی ، فورٹ ہڈ ، میں تعینات ایک فوجی افسر نے جمعرات کے روز فائرنگ کر کے 12افراد کو ہلا ک اور 30 سے زائد کو زخمی کردیا ۔ فوجی حکام نے مبینہ حملہ آور کا نام میجر ندال ملک حسن بتایا ہے جوچھاؤنی کے ہسپتال سے منسلک ایک ماہر نفسیا ت ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ واقعہ کے محرکات کے بارے میں فی الحال وہ کچھ نہیں جانتے۔

فوجی اڈے کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل رابرٹ کون نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ چھاؤنی کی اُس عمارت میں پیش آیا جہا ں فوجی افغانستان اورعراق میں تعیناتی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔انھوں نے کہا کے حملہ آور کے ہاتھ میں دو پستول تھے اور وہ اس وقت زخمی حالت میں حکام کی حراست میں ہے ۔

کون نے بتایا کہ دو دوسرے مشتبہ افرا د کو بھی حراست میں لیاگیا جنہیں ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیاہے ۔ انھوں نے کہاکہ تفتیش کارروں نے اس بات کی یقین دہانی کر لی ہے کہ میجر حسن نے یہ کارروائی اکیلے ہی کی تاہم انھوں نے اس واقعہ کے محرکات کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا۔ پینٹاگون کے ترجمان جیف مورل نے کہا ہے کہ محرکات کے بارے میں کی جانے والی قیاس آرائیاں قبل از وقت ہیں کیونکہ ان کے بقول ہم خود ابھی تک اس واقعہ کے بہت کم حقائق سے آگاہ ہیں۔

ریاست ورجینیامیں پیدا ہونے والے میجر حسن کی عمر 39 سال ہے اور اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس کے والدین فلسطین کے ایک گاؤں سے ہجرت کرنے کے بعد امریکہ میں آکر آباد ہوئے ۔ ریاست کے میڈیکل بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق اس نے 2003 ء میں واشنگٹن ڈی سی میں فوج کے ایک میڈیکل سکول سے ڈگری حاصل کی تھی۔

فورٹ ہڈ امریکہ کی بڑی فوجی چھاؤنیوں میں سے ایک ہے جہاں تقریباًتین لاکھ فوجی اور سویلین کام کرتے ہیں جن کے ہزاروں رشتہ دار بھی یہیں رہائش پذیر ہیں۔اس چھاؤنی کے 15ہزار فوجی ان دنوں امریکہ سے باہر فرائض انجام دے رہے ہیں اور یہاں سے باقاعدگی کے ساتھ فوجیوں کو افغانستان اور عراق بھی بھیجا جاتا ہے۔تاہم میجر حسن کو امریکہ سے باہر نوکری کے لیے ابھی تک نہیں بھیجا گیا ہے۔