عسکری حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے خلاف فوج مسلسل پیش قدمی کررہی ہے اور جمعہ کے روز وہ مکین کے علاقے میں داخل ہوگئی ہے جو”دہشت گردوں کا ہیڈکوارٹر“ مانا جاتا ہے۔ ایک فوجی بیان کے مطابق اس علاقے کے ایک بڑے حصے کو عسکریت پسندوں سے صاف کرالیاگیا ہے اور یہاں پر کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود کے گھر کو بھی مسمار کردیا گیا ہے جو اگست کے اوائل میں ایک مبینہ امریکی میزائل حملے میں مارا گیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مکین کے بعض حصوں میں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور ان کے بقول دہشت گرد اسلحہ و بارود چھوڑ کر علاقے سے فرار ہورہے ہیں۔ اس لڑائی میں 21مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں طالبان شدت پسندوں کے اڈوں کو ختم کرنے اور علاقے پر سرکاری کنٹرول بحال کرنے کے لیے 17اکتوبر کو ”راہ نجات“ کے نام سے ایک بھرپور زمینی آپریشن شروع کیا تھا اور حکام نے اب تک اس لڑائی میں 450سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ کم از کم 40فوجی بھی اس آپریشن میں مارے گئے ہیں۔
تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی وزیرستان میں میڈیا کے نمائندوں کی رسائی نہ ہونے کے باعث آزاد ذرائع سے لڑائی کے بارے میں جاری ہونے والے سرکاری اعدادوشمار کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔


