وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے منگل کے روز عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا جائزہ لینے اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مشکلات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے جنوبی وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی   ‘راہِ نجات’  میں حصہ لینے والے افسروں اور جوانوں سے وزیرِ اعظم نے اپنے مختصر خطاب میں اُن کی بہادری اور جراٴت پر شاباش  دی اورکہا کہ دہشت گردوں سے کسی بھی  قسم کی رعایت  نہیں برتی جائے گی۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے مشکلات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران اِس فوجی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے  یقین دلایا کہ یہ کارروائی توقع سے پہلے مکمل ہو جائے گی۔

اُن کے الفاظ میں: ‘مجھے  اِس  لیے اطمینان ہے کہ کارروائی کے جو اہداف تھے وہ حاصل ہو رہے ہیں۔  اُن کےجو  گڑھ تھے اُن  کا  قبضہ لیا جارہا ہے۔’ اُنھوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے اور مراکز تباہ کردیے گئے ہیں،  جب کہ بیشتر علاقوں میں حکومت کی عمل داری  قائم کی جارہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے محسود قبائل سے اپیل کی کہ وہ امن قائم کرنے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں اور اُن لوگوں کو اپنے علاقوں سے نکال  باہر کریں جو غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے یہ بھی یقین دلایا کہ مالاکنڈ اور وزیرستان کے لوگوں کے معاشی مسائل بھی  حل کیے جائیں گے،  کیونکہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے یہاں پر عسکریت پسندی اور انتہا پسندی فروغ پا رہی ہے۔