فلسطینی عہدے داروں نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس جنوری میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
توقع ہے کہ جمعرات کے دیرگئے اس اپنے فیصلے کی وضاحت کے لیے خطاب کریں گے۔
مسٹر عباس جنوری 2005 میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر بننے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ امن کے لیے کوششیوں کرتے رہے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے تازہ دباؤ کے باوجود ، ان کی کوششوں کے نتیجے میں معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
مسٹر عباس نے واشنگٹن کی جانب سے غیر مشروط طورپر اسرائیل کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔
فلسطینیوں کا اصرار ہے کہ وہ اس وقت تک کوئی پیش رفت نہیں کریں گے جب تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد نہیں کردیتا۔
ماضی میں صدر محمود عباس یہ تجویز دے چکے ہیں کہ اگر امن کے لیے ان کے مطالبے پورے نہیں ہوئے تو ان کےپاس اپنے عہدے پر قائم رہنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔

