اگست 1791ء کو کیریبین کے جزائز ہیتی اور ڈومینک ری پبلک میں ِ غلامی کے خلاف پہلی بار بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے، جس کے بعد سے اس ظالمانہ رسم کے خاتمے کی تحریک شروع ہوئی۔ اقوامِ متحدہ ہر سال 23 اگست کو ان مظاہروں کی یاد میں انسدادِ غلامی کا بین الاقوامی دِن مناتی ہے۔

 اِس کا مقصد  بحرِ اوقیانوس کے آرپار غلاموں کی تجارت کے المیے اور اِس کی خاتمے کے عمل کو یاد کرنا ہے۔  یہ دِن منانے کا یہ بھی مقصد ہے کہ نئے دور کی غلامی کے طور طریقوں کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے۔

جدید دنیا میں مرد، خواتین اور بچوں کو اب زنجیر یں نہیں پہنائی جاتیں،  اُن کو مویشیوں کی طرح منڈی کی طرح سب سے اونچی بولی دینے والے گاہک کے سامنے نیلامی کے لیے پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی آج کی دنیا میں کوئی شخص کسی دوسرے انسان کو خرید کر زندگی بھر کے لیے اپنی ذاتی ملکیت بناتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا سے غلامی کا رواج مکمل طور پر لد چکا ہے۔ بلکہ آج کل غلامی کے نت نئے طریقے رائج ہیں جو اکثروبیشتر ویسے ہی ظالمانہ اور تذلیل پر مبنی ہوتے ہیں۔


راجر پلانٹ اقوامِ متحدہ کے جبری مشقت کے انسداد کے پروگرام کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، بھیک منگوائی جاتی ہے اور دوسرے غیر قانونی کام کروائے جاتے ہیں اور لوگوں سے یہ کام زبردستی لیا جاتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے اسے چھوڑ نہیں سکتے اور اگر چھوڑیں تو انھیں خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پلانٹ کا کہنا ہے کہ یہ جبری مشقت کی پہلی تشریح ہے 1930ء میں مزدوروں کے عالمی ادارے (آئی ایل او)نے جبری مشقت کے قانون کی منظوری کے وقت پیش کی تھی۔

 اُن کا کہنا تھا کہ زیادہ تر جبری مشقت نجی شعبے لی جاتی ہے، اور اکثر کئی ماہ یا سالوں تک جاری رہتی ہے۔  اگرچہ تاحیات جبری مشقت، غلامی اور بیگار کے واقعات بھی مل جاتے ہیں، تاہم پلانٹ کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کی تعداد بہت کم ہے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار وہ لوگ ہیں جو محنت مزدوری کرنے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک میں آباد ہو جاتے ہیں۔ پلانٹ کہتے ہیں کہ ایسے مزدور، اور خاص طور نوجوان لڑکیاں استحصال کے زبردست خطرے سے دوچار ہوتی ہیں۔ اور یہ صورتِ حال صرف ترقی پذیر ممالک تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دنیا کا ہر ملک جبری مشقت کے مسئلے سے دوچار ہے۔ اگرچہ اس سے نمٹنے کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن چوں کہ اس کاروبار میں بڑا منافع ہے، اس لیے ان قوانین کو زیادہ سنجیدگی سے نافذ نہیں کیا جاتا۔

عالمی ادارہٴمحنت کا کہنا ہے کہ ہر سال جنسی استحصال کی مد میں 28ارب ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے، جب کہ دوسرے تمام اقسام کی جبری مشقت سے 21ارب ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہٴ محنت کے جبری مشقت کے انسداد سے متعلق کام کےپالیسی ساز عہدے دار بیٹی ایندریز کا کہنا ہے کہ پناہ گزیں کارکن اپنے آپ کو خطرہ مول لینے والے تصور کرتے ہیں۔  اُن کا خیال ہے کہ بیرونِ ملک روزگار ملنے سے وہ اپنی زندگی میں خوش گوار تبدیلی لا سکتے ہیں۔لیکن جب وہ ہجرت کے نظام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو معاملہ سنورنے کی جگہ بگڑ جاتا ہے۔

ہجرت سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کی خاتون ترجمان، جِٕمنی پانڈیا کہتی ہیں کہ استحصال کے شکار لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ اُن کا استحصال کون کر رہا ہے۔
پانڈیا کہتی ہیں کہ مشرقی یورپ کے ممالک میں اِس قسم کی شکایات عام ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہاں کی غریب عورتوں کوبہتر روزگار دلانے کے بہانے ورغلا کر مغربی ملکوں کی طرف لے جاتے ہیں اور یہ وہ لوگ  ہوتے ہیں جِن پر وہ بھروسا کرتی ہیں۔

اکثر و بیشتر انسدادِ جبری مشقت قوانین کا نفاذ نہیں کیا جاتا۔ اور زیادہ تر انسانی سمگلنگ کا شکار بننے والے افراد ہی کو سزا دی جاتی ہے، جو لوگ اس کاروبار میں ملوث ہیں، وہ بچ نکلتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے جرائم میں بہت کم لوگ سزا پاتے ہیں۔

انسدادِ غلامی کے حامی کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو جبری مشقت سے ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہی دی جائے تو اس کے بدترین پہلوؤں کی شدت کم کی جا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو احساس دلایا جائے کہ کوٹھے میں بیٹھی طوائف کو زبردستی وہاں رکھا گیا ہے اور جو سستی جینز آپ خرید رہے ہیں وہ ایسے مزدوروں سے بنوائی گئی ہے جن سے بارہ بارہ گھنٹے بغیر تنخواہ دیے کام لیا جاتا رہا ہے، تو عین ممکن ہے کہ غلامی کے یہ جدید طور طریقے ختم کیے جا سکیں۔