لاہور عجائب گھر کے سامنے انارکلی بازار کے رخ پر سنگِ مرمر کے چبوترے پر ایک ڈھائی سو سال پرانی گراں ڈیل توپ رکھی ہوئی ہے، جسے مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، زمزمہ، بھنگیوں کی توپ اور کبھی کبھار، کمز گن (Kim’s Gun)۔

اس توپ کو آخر الذکر نام مشہور برطانوی مصنف رڈیارڈ کپلنگ کے ناول ’کِم‘ کی مناسبت سے دیا گیا ہے۔ یہ ناول کچھ یوں شروع ہوتا ہے:

’ کِم بلدیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پرانے عجائب گھر سامنے رکھی توپ زمزمہ پر بیٹھا تھا۔‘

بعد میں بھی ناول میں جس پلیٹ فارم پر یہ توپ رکھی ہوتی ہے وہاں کِم آتا جاتا رہتا ہے اور اسی رعایت سے اس توپ کو کِمز گن بھی کہا جانے لگا حالاں کہ مقامی لوگ اس کو اب بھی زیادہ تر بھنگیوں کی توپ ہی کہتے ہیں۔

کپلنگ کے کردار نے جس مقام پر اس توپ کو دیکھا تھا آج کل یہ توپ اُس جگہ سے تھوڑی دُور لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس کے سامنے مال روڈ پر اس کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے چبوترے پر رکھی ہے۔ آج بھی سیاحت کو آنے والے اکثرلوگ بھنگیوں کی اس توپ کو بھی دیکھنے آتے ہیں جس کا اصلی نام ’زمزمہ‘ ہے جواس توپ پر بھی تحریر ہے۔
 
  محکمہٴ سیاحت کے چبوترے پر اس توپ کی جوتاریخ کندہ کی ہوئی ہے اس کے مطابق یہ 1757ء صدی میں ڈھالی گئی تھی اور اس کا شمار برصغیر میں اُس وقت تک بننے والی سب سے بڑی توپوں میں ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ توپ ڈھالنے کی خاطر لاہور کے شہریوں نے ہر گھر سے تانبے یا پیتل کا ایک ایک برتن فراہم کیا تھا۔

یہ توپ ساڑھے نو انچ دھانے کی ہے اور کوئی سوا چودہ فٹ لمبی ہے۔ اسے احمد شاہ ابدالی نے 1761ء میں اس توپ کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں استعمال کیا اور کابل واپس جاتے ہوئے وہ اسے لاہور چھوڑ گیا تھا۔ بعد میں یہ سکھ سردار ہری سنگھ بھنگی کے قبضے میں آگئی جس وجہ سے آج تک بھنگیوں کی توپ کے نام سے بھی جانی جاتی ہے۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ نے 1802ء میں بھنگیوں کو شکست دے کر یہ توپ اپنی تحویل میں لے لی اور پھر اس کو کئی لڑائیوں میں استعمال کیا۔ جب یہ توپ استعمال کے قابل نہ رہی تو اس کو لا کر لاہور کے شاہی قلعے میں رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ توپ لاہور ہی میں رہی۔ برطانوی دور میں اس توپ کو عجائب گھر لاہور کے سامنے رکھ دیا گیا۔

نیشنل کالج آف آرٹس کی آرٹ گیلری کے سابق نگران ڈاکٹر اعجاز انور نےاس توپ پر کئی تحقیقی مضامین لکھے ہیں۔ اُنہوں نے ایک ملاقات میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے جب ملتان فتح کیا تو وہ آخری مہم تھی جس میں یہ توپ استعمال ہوئی کیونکہ اس لڑائی میں یہ ٹوٹ پھوٹ گئی تھی اور پھراس کے بیرل کو لا کر شاہی قلعہ لاہور میں رکھ دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا تھا کہ برطانوی دور میں اس کو موجودہ شکل میں لاکر پہلے دہلی دروازے کے باہر رکھا گیا اور 1870ء میں لاہور کے عجائب گھر کے باہر ایک چبوترے پر نصب کیا گیا۔

  ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اعجاز انور نے کہا 1970ء کے عشرے میں نیشنل کالج آف آرٹس کےسامنے ایک پلیٹ فارم بنایاگیا اور ساتھ ایک فوارہ بھی تعمیر کیا گیا اور یہاں یہ توپ رکھ دی گئی۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس توپ کا اصلی نام زمزمہ ہی ہے جس کا مطلب شیر کی دھاڑ ہوتا ہے۔ اُن کے بقول جو لوگ موسیقی کی اصطلاح زمزمہ سے اس توپ کے نام کو جوڑتے ہیں وہ شاید احمد شاہ ابدالی کے کردار سے واقف نہیں ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز انور کا کہنا تھا جس دور میں یہ توپ ڈھالی گئی اس زمانے میں لاہور میں غیر ملکوں سے آئے ہوئے بہت سے ماہر کاریگر رہتے تھےاور ایک روایت ہے کہ وہ آرمینیا سے آئے ہوئے کاریگر تھے جنہوں نے یہ توپ ڈھالی تھی۔

 ڈاکٹر اعجاز انور نے کہا کہ زمزمہ کی تاریخ کچھ بھی ہو اور اس کو کسی نے بھی ڈھالا ہو یہ بہرحال جنگوں کی نشانی ہے اور پلیٹ فارم پر رکھنے والوں نے اتفاق سے اس کے دہانے کارُخ آج بھی پانی پت ہی طرف رکھا ہوا ہے۔