قومی مصالحتی آرڈیننس  ( این آر او) کی معیاد 28 نومبر کو ختم ہونے کے بعد اِس وقت ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں اور میڈیا میں یہ بحث زور پکڑتی جارہی ہے کہ جِن آٹھ ہزار سے زائد افراد نے اس متنازع قانون کا فائدہ اٹھایا ہے اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔ اُن میں صدر آصف علی زرداری اور اُن کی حکمراں پیپلز پارٹی کے کئی اراکین اور وزراء کے نام بھی شامل ہیں۔

آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ این آر او کے غیر موٴثر ہونے کے بعد اس کے تحت ختم کیے گئے بدعنوانی اور فوجداری کے مقدمات عدالتیں دوبارہ سن سکتی ہیں۔ اِس امکان نے صدر زرداری اور ان کی سیاسی جماعت پر بلاشبہ دباؤ اور تنقید میں اضافہ کر دیا ہے ۔

سیاسی مخالفین مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ جن وزراء اور پارٹی ممبران کے نام این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل ہیں انھیں یا تو حکومت سے الگ کر دیا جائے یا پھر پارٹی کی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ خود سرکاری عہدے چھوڑ کر عدالتوں میں جا کر اپنی بے گناہی کو ثابت کریں۔

معروف آئینی ماہر اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ق) سےتعلق رکھنے والے سنیٹر  ایس ایم ظفر کا ماننا ہے کہ اس سیاسی دباؤ کی وجہ سے صدر زرداری کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے اور ممکن ہے کہ صدر اپنے آئینی اختیارات وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پارلیمنٹ کو منتقل کر نے کا فیصلہ کر کے اپنے ناقدین کی تنقید کا رُخ موڑنے کی کوشش کریں۔   ان کے بقول،  اگر ایسا نہ ہو ا تو پھر سیاسی کشیدگی اور بے یقینی کی فضا قائم رہے گی ۔

 وائس آف امریکہ  سے خصوصی گفتگو میں ا یس ایم ظفر نے کہا کہ یہ غیر یقینی صور ت حال آگے چل کر ملک کی سیاسی و اقتصادی مشکلات میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف فوجی  کارروائیوں سے بھی توجہ ہٹانے کا باعث بن سکتی ہے۔

صدر زرداری نے ایک حالیہ انٹرویو میں عندیہ دیا ہے کہ متنازع سترہویں آئینی ترمیم دسمبر میں ختم کر دی جائے گی جس کے تحت انھیں پارلیمنٹ اور حکومت کو برخواست کرنے کے علاوہ کئی ایسے دوسرے اختیارات حاصل ہیں،  جو ناقدین کے بقول، ملک کے پارلیمانی جمہوری نظام کے استحکام کی راہ میں رُکاوٹ ہیں۔