Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

قدرتی گیس سے مالا مال بلوچستان میں CNGکے صرف 5سٹیشن


July 25, 2008

Quetta-Cars at CNG Station
ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے بعد جہاں دوسرے صوبوں میں سی این جی کی مانگ میں شدید اضافہ ہوا ہے وہاں بلوچستان میں بھی عوامی اور سرکاری سطح پر سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے بلوچستان جو کہ قدرتی گیس کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے مگر اس کے دارالحکومت کوئٹہ میں سی این جی کے صرف 4 اسٹیشن ہیں اور ایک اسٹیشن کراچی کے قریب حب میں قائم ہے اس کے علاوہ صوبے کے کسی علاقے میں سی این جی اسٹیشن نہیں جبکہ زیادہ تر شہروں کا ایک دوسرے سے فاصلہ 100 میل سے زیادہ ہے ان سی این جی اسٹیشنوں میں سے 2 فوج ،1 حکومت اور چوتھا اسٹیشن نجی ملکیت میں ہے جہاں صبح سویرے سے رات گئے تک ہر وقت سینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ر ہتی ہیں جس سے سڑک پر ٹریفک میں بھی خلل پیدا ہو رہا ہے ۔

ائیر پورٹ روڈ پر عسکری پٹرول پمپ پر قطار میں لگے ایک 70سالہ ریٹائرڈ پروفسیر تاج محمد فیض نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ 3 گھنٹوں سے قطار میں کھڑے ہیں اور اب دوپہر کے ڈیڑھ بجنے والے ہیں اور گرمی بھی شدید ہے مگر ان کی باری آنے میں مزید ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بزرگ شہریوں کے لئے نام نہاد سہولتوں کا اعلان تو کر رکھا ہے مگر عملی طو رپر اس کا مظاہرہ کہیں نہیں ہو رہا ۔

ایک رکشہ ڈرائیور محمد آصف نے بتایا کہ وہ تعلیم یافتہ ہے اور صدر کے روزگار منصوبے کے تحت ایک سی این جی رکشہ قسطوں پر تو حاصل کر لیا مگر اب مصیبت یہ ہے کہ سی این جی ڈلوانے کے لئے روزانہ تین سے چار گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ایک طرف تو ان کا بے تحاشا وقت ضائع ہو رہا ہے اور دوسری طرف آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے ان کے بقول مہینے کے آخر میں وہ بڑی مشکل سے بینک کی رقم ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ گھر کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف بینک کے لئے ہی کما رہے ہیں ۔

یاد رہے کہ کوئٹہ کی آبادی 20لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس صوبائی دارالحکومت میں رجسٹر ڈ گاڑیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں سی این جی سی چلنے والے رکشوں کی تعداد 6500 سے زیادہ ہے اور دوسرے شہروں کی رجسٹرڈ گاڑیاں اس کے علاوہ ہیں محکمہ ایکسائیز و ٹیکسیشن کے مطابق صوبے بھر میں قانونی گاڑیوں کی تعداد اڑھائی لاکھ کے قریب ہے ۔

Quetta-CNG STATION
سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد میں کمی کے بارے میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منجیر مشتاق صدیقی نے بتایا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں موجود پائپ لائنوں میں گیس پریشر کم رہتا ہے جبکہ سردیوں میں یہ پریشر مزید کم ہو جاتا ہے جس سے گھریلو صارفین کی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کیا جا سکتا اور بعض اوقات گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کرنی پڑتی ہے ان کے مطابق سی این جی اسٹیشنوں کو15-PSI پریشر درکار ہوتا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جن انہیں مین پائپ لائن سے ایک مخصوص لائن دی جائے اور اس لائن پر تقریباً ایک کروڑ کی لاگت آتی ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ اس وقت کوئٹہ شہر میں مزید سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کے لئے ان کے پاس 15 درخواستیں موجود ہیں جن پر معمول کی کارروائی ہو رہی ہے ۔ ایک گاڑی کے مالک رحمت اللہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے مگر یہاں کے گھریلو اور کمرشل صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پنجاب میں 1500 ،سندھ میں1200 ،سرحد میں00 9 اور بلوچستان میں صرف 4 سی این جی اسٹیشن دیکھتے ہیں تو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک محروم صوبے کے شہری ہیں ۔

آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (AWT)کے زیر انتظام عسکری پٹرولیم پر سی این جی اسٹیشن کے مالک کرنل خالد نے بتایا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ عوام کو سہولتیں دیں ان کے مطابق گاڑیوں کی لمبی قطاروں اور گرمی کے باعث بعض مالکان چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ۔ بعض گاڑی مالکان نے یہ بھی شکایت کی کہ (AWT)کے اسٹیشنوں پر گیس مہنگے داموں فراہم کی جاتی ہے وہاں سی این جی 49.40 روپے جبکہ نجی اسٹیشن پر 47روپے فی کلو ہے جس کا پریشر بھی ٹھیک رہتا ہے ۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سی این جی کی طلب میں اس وقت سے اضافہ ہوا ہے جس ہمسائیہ ملک ایران نے اس سال جون میں پٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی اور اپنے ملک میں پٹرولیم کی راشن بندی کر دی ہے ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اسمگلنگ سے انہیں سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا ایرانی تیل کوئٹہ سمیت صوبے کے اکثر علاقوں میں قائم منی پٹرول پمپوں پر ارزاں نرخوں پر دستیاب تھا ۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار قدرتی گیس 1952ء میں سوئی کے مقام سے دریافت ہوئی اور 1954ء میں اس کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز ہوا تاہم صوبہ بلوچستان میں اس کی فراہمی 1986ء میں کوئٹہ شہر کو گیس کی سپلائی سے ہوا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
مسائل پر قابو پانے کے لیے نوازشریف کو ساتھ لے کر چلنا زرداری کے لیے ضروری ہے
پاکستان میں یوایس ایڈ کا کردار
نیوزیم کی نیوز ہسٹری گیلری
خدا بخش لائبریری میں فراز کے انتقال پر تعزیتی جلسہ
امریکی سفارت خانے کو  مشکوک لفافے موصول ہوئے ہیں
اگر پی سی بی کو ضرورت نہ ہو تو وطن واپس جانے کے لیے تیار ہوں: جیف لاسن
پشاور کے نواح میں ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک شدگان 33 ہوگئی
جارجیا کے بحران پر یورپ اور امریکہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے: وزیر خارجہ اٹلی
مسلمانوں کا امریکہ: مسلمان خواتین ۔۔۔ چوتھی قسط: تیسرا حصہ  Video clip available
Muslims’ America: Women in Islam … Episode 4, Part 3  Video clip available
ہری کین آئیک سے بہاماز،کیوبا اور امریکی خلیجی ساحل کو خطرہ
اسرائیل کا مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ختم کرنے پر غور
دارفر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر سوڈانی فوج کے حملے
مصر میں چٹان پھسلنے سے 30 افراد ہلاک 
انگولا کے پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت جیت رہی ہے
بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
ایران  میں پیر سے تین روزہ  جنگی مشقیں 
افغانستان میں پولیس ہیڈ کواٹرز پر خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک
پاکستان کے نو منتخب صدر کے بارے میں ردِّ عمل؛  توقعات، امیدیں اور خدشات
ایوانِ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن قائم کرنا اَوّلین ترجیح ہوگی: نو منتخب صدر زرداری
وکلاء کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج  Video clip available
صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیئےری پبلیکن پارٹی کا نیشنل کنونشن  Video clip available
ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار سارہ پالین  Video clip available
بھارت میں کئی کال سینٹرز نابینا افراد کو روزگار فراہم کررہے ہیں  Video clip available