ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران پٹرولیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے بعد جہاں دوسرے صوبوں میں سی این جی کی مانگ میں شدید اضافہ ہوا ہے وہاں بلوچستان میں بھی عوامی اور سرکاری سطح پر سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے بلوچستان جو کہ قدرتی گیس کی پیداوار میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے مگر اس کے دارالحکومت کوئٹہ میں سی این جی کے صرف 4 اسٹیشن ہیں اور ایک اسٹیشن کراچی کے قریب حب میں قائم ہے اس کے علاوہ صوبے کے کسی علاقے میں سی این جی اسٹیشن نہیں جبکہ زیادہ تر شہروں کا ایک دوسرے سے فاصلہ 100 میل سے زیادہ ہے ان سی این جی اسٹیشنوں میں سے 2 فوج ،1 حکومت اور چوتھا اسٹیشن نجی ملکیت میں ہے جہاں صبح سویرے سے رات گئے تک ہر وقت سینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ر ہتی ہیں جس سے سڑک پر ٹریفک میں بھی خلل پیدا ہو رہا ہے ۔ ائیر پورٹ روڈ پر عسکری پٹرول پمپ پر قطار میں لگے ایک 70سالہ ریٹائرڈ پروفسیر تاج محمد فیض نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ 3 گھنٹوں سے قطار میں کھڑے ہیں اور اب دوپہر کے ڈیڑھ بجنے والے ہیں اور گرمی بھی شدید ہے مگر ان کی باری آنے میں مزید ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بزرگ شہریوں کے لئے نام نہاد سہولتوں کا اعلان تو کر رکھا ہے مگر عملی طو رپر اس کا مظاہرہ کہیں نہیں ہو رہا ۔
ایک رکشہ ڈرائیور محمد آصف نے بتایا کہ وہ تعلیم یافتہ ہے اور صدر کے روزگار منصوبے کے تحت ایک سی این جی رکشہ قسطوں پر تو حاصل کر لیا مگر اب مصیبت یہ ہے کہ سی این جی ڈلوانے کے لئے روزانہ تین سے چار گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ایک طرف تو ان کا بے تحاشا وقت ضائع ہو رہا ہے اور دوسری طرف آمدنی بھی متاثر ہو رہی ہے ان کے بقول مہینے کے آخر میں وہ بڑی مشکل سے بینک کی رقم ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ گھر کے لئے کچھ بھی نہیں بچتا ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف بینک کے لئے ہی کما رہے ہیں ۔
یاد رہے کہ کوئٹہ کی آبادی 20لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور اس صوبائی دارالحکومت میں رجسٹر ڈ گاڑیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں سی این جی سی چلنے والے رکشوں کی تعداد 6500 سے زیادہ ہے اور دوسرے شہروں کی رجسٹرڈ گاڑیاں اس کے علاوہ ہیں محکمہ ایکسائیز و ٹیکسیشن کے مطابق صوبے بھر میں قانونی گاڑیوں کی تعداد اڑھائی لاکھ کے قریب ہے ۔
سی این جی اسٹیشنوں کی تعداد میں کمی کے بارے میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منجیر مشتاق صدیقی نے بتایا کہ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں موجود پائپ لائنوں میں گیس پریشر کم رہتا ہے جبکہ سردیوں میں یہ پریشر مزید کم ہو جاتا ہے جس سے گھریلو صارفین کی ضرورتوں کو بھی پورا نہیں کیا جا سکتا اور بعض اوقات گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کرنی پڑتی ہے ان کے مطابق سی این جی اسٹیشنوں کو15-PSI پریشر درکار ہوتا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے جن انہیں مین پائپ لائن سے ایک مخصوص لائن دی جائے اور اس لائن پر تقریباً ایک کروڑ کی لاگت آتی ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ اس وقت کوئٹہ شہر میں مزید سی این جی اسٹیشنوں کے قیام کے لئے ان کے پاس 15 درخواستیں موجود ہیں جن پر معمول کی کارروائی ہو رہی ہے ۔ ایک گاڑی کے مالک رحمت اللہ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے مگر یہاں کے گھریلو اور کمرشل صارفین کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پنجاب میں 1500 ،سندھ میں1200 ،سرحد میں00 9 اور بلوچستان میں صرف 4 سی این جی اسٹیشن دیکھتے ہیں تو بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک محروم صوبے کے شہری ہیں ۔ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (AWT)کے زیر انتظام عسکری پٹرولیم پر سی این جی اسٹیشن کے مالک کرنل خالد نے بتایا کہ یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ عوام کو سہولتیں دیں ان کے مطابق گاڑیوں کی لمبی قطاروں اور گرمی کے باعث بعض مالکان چڑچڑے ہو جاتے ہیں اور لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ۔ بعض گاڑی مالکان نے یہ بھی شکایت کی کہ (AWT)کے اسٹیشنوں پر گیس مہنگے داموں فراہم کی جاتی ہے وہاں سی این جی 49.40 روپے جبکہ نجی اسٹیشن پر 47روپے فی کلو ہے جس کا پریشر بھی ٹھیک رہتا ہے ۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں سی این جی کی طلب میں اس وقت سے اضافہ ہوا ہے جس ہمسائیہ ملک ایران نے اس سال جون میں پٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی اور اپنے ملک میں پٹرولیم کی راشن بندی کر دی ہے ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات اسمگلنگ سے انہیں سالانہ ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا ایرانی تیل کوئٹہ سمیت صوبے کے اکثر علاقوں میں قائم منی پٹرول پمپوں پر ارزاں نرخوں پر دستیاب تھا ۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار قدرتی گیس 1952ء میں سوئی کے مقام سے دریافت ہوئی اور 1954ء میں اس کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز ہوا تاہم صوبہ بلوچستان میں اس کی فراہمی 1986ء میں کوئٹہ شہر کو گیس کی سپلائی سے ہوا۔